Machine transcription
۱۵۲
ہمنے استنبول و بیت المقدس وغیرہ میں رہبانوں کو دیکھا وہ سراپا اخلاق اور
انکسار مجسم ہیں۔
ان آیات سے ثابت ہے کہ مطلق محبت و تودد ممنوع شرعی ہے۔ نہ ان آیتوں کے احکام
میں داخل ہے مودت و محبت غیر مشروع وہی ہے جو کہ غیر اہل دین سے من حیث الدین ہو
جو آیات اوپر مذکور ہوئیں اُن سب میں اُسی قسم کی محبت کی نہی وارد ہوئی۔
شروع اسلام میں منافقین جو ظاہر میں ایمان لائے تھے اور حقیقت میں محبت باعتبار
دین مدینہ کے یہودیوں کے ساتھ رکھتے تھے ایسے ہی لوگوں سے محبت رکھنا منع
فرمایا گیا۔ اسیکا اشارہ آیت اول میں ہے
مگر جب غلبہ اسلام کو ہو گیا اور حق غالب آیا تو کچھ مضایقہ نہیں کہ مسلمان کفار کو ساتھ
بحسن معاشرت پیش آئیں اور خلق محمدی کو ہر ایک مخالفت پر ظاہر کردیں۔ تاکہ ہمارے
دین ہماری عادات کی خوبی ان پر ظاہر ہو۔
آیت دوم میں جو لفظ اولیاء آیا ہے اُس سے بھی محبت فی الدین مراد ہے
تفسیر کشاف میں اسی آیت کے تحت میں لکھا ہے کہ اخلاق کافروں کے ساتھ کرتا
چاہیے اور خلوص مسلمانوں کے ساتھ جس سے صاف ظاہر ہے کہ حُسنِ معاشرت
کفار کے ساتھ منع نہیں ۔ الا محبت من حیث الدین مسلمانوں کے ساتھ ہونی چاہیے
مسلمان کی دوستی کافر کے ساتھ تین وجہ سے ہو سکتی ہے۔ ایک یہ اسکی
کفر سے راضی ہو کر دوستی کرے تو بلاشبہ اس کے کام کو دوست و پسندیدہ کریگا
اور دوست و پسند کرنا کفر کا کفر ہے۔ خوش ہونا کفر کے ساتھ کفر ہے تو اس صفت کے
ساتھ مسلمان رہنا محال ہے۔
دوم یہ کہ معاشرت نیک دنیا میں بظاہر ظاہر یہ منع نہیں ہے۔ سوم قسم متوسط
ان دونوں میں ہے۔ دوستی کرنا بمعنی میلان اور اعتماد کے کفار کے ساتھ
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
