Machine transcription
۷۷
۲۸ فروری ۱۹۰۷ء ۔ راہ مین اسٹیشن بہاولپور پر کچھ ٹھہرے نواب مرحوم کی تعزیت
فرمائی ۔
یکم مارچ ۱۹۰۷ء ۔ لاہور پہنچے۔ اسٹیشن خوب آراستہ تھا۔ ٹرین سے ہزمیجسٹی اتری
یورپین حکام و ہندوستانی رؤسا استقبال کے لیے موجود تھے۔ اسٹیشن کے
باہر کیمپ کی سڑک پر خلقت کا اژدحام تھا۔ آج شاہی مسجد مین نماز جمعہ ادا فرمائی
مسجد مین عیدین سے بھی زیادہ مجمع تھا۔ مسجد کو عمدہ طریقہ سے آراستہ کیا گیا تھا۔ امام مسجد نے خطبہ پڑھا اور نماز پڑھائی
آپ نے امام کی قرأت سے خوش ہو کر خلعت مع زر نقد مرحمت فرمایا موذن
کو بھی ایک دوشالا بخشا۔
مسجد سے نکلنے پر لوگوں نے آپ پر پھول برسائے۔ مسجد سے سیدھے
آپ شہنشاہ جہانگیر کے مقبرہ پر گئے۔ فاتحہ پڑھی چند منٹ مراقبہ مین رہے
کچھ اشرفیان قبر پر رکھکر اُٹھ کھڑے ہوئے۔ مالی باغ نے بھی انعام پایا
اُس کے بعد چیف کالج گئے جہان پرنسپل و ممبران اسٹاف نے
استقبال کیا۔ معززین طلباء مین خورد سال مہاراجہ پٹیالہ۔ کم سن راجہ
فرید کوٹ۔ ولیعہد چمبہ۔ خیرپور سندھ کے خورد سال میر سے ملاقات فرمائی
پرنسپل کے ساتھ تمام عمارات کالج کا معائنہ کیا۔ کچھ سوالات کیے اور
کتاب مین اپنے معائنہ و مسرت کا تحریری اظہار فرمایا۔
کالج کے بعد آپ چھاؤنی میانمیر مین تشریف لائے۔ لفٹنٹ جنرل والٹر
کچنر نے استقبال کیا۔ سر چارلس ریواز اور شہر و چھاؤنی کے جنٹلمین و لیڈیاں
بھی موجود تہین۔ لیڈیون کی ایک کمیٹی جو خیر مقدم کے لیے بنائی گئی تھی وہ حاضر
ہوئی۔ آپ ہر ایک سے نہایت خوش خلقی سے پیش آئے۔ لیڈیون کو جگنیاں۔
انگوٹھی۔ چھلے وغیرہ عنایت کیے شیکو لفٹنٹ گورنر پنجاب کے مہمان ہوئے۔
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
