Machine transcription
۳۳
یہان ایک خاص واقعہ کا ذکر ضروری ہے ۔ ورود لنڈی کوتل سے دو روز قبل
کرنل سردار محمد اسمعیل خان صاحب سفیر کابل متعینہ ہند حضور مین بمقام ڈکہ طلب ہوئے
تھے۔ اونکو جہان اور احکام ملے اونمین ایک ضروری حکم یہ بھی تھا کہ موقع دہلی
بروز عید الضحیٰ قربانی کے لئے انتظام دو سو بکرون کا کیا جاوے ۔ اس حکم کے
ساتھ ارشاد فرمایا کہ ہم اپنے سیاحت ہند مین کسی کو آزردہ کرنا نہین چاہتے قربانی
گائے سے اصلی باشندگان ہند کو رنج پہونچے گا ۔ اور یہ امر شرط مروت و اقتضاے
انسانیت سے بعید ہے چونکہ ہماری شریعت بھی ہمکو اجازت دیتی ہے کہ حلال جانورون
مین جس جانور کو چاہین قربانی کے لئے اختیار کرین اسصورت مین ہم قربانی گاے کو
غیر ضروری سمجھتے ہین ہمارا مذہب گاے کی قربانی پر ہمکو مجبور نہیں کرتا۔
چنانچہ ہمنے حسب ہدایت سفیر صاحب فوراً مرزا محمد اکبر علینان ممبر کمیٹی انتظامی کو
تحریر کیا کہ وہ دو سو بکرے موقع عید الضحیٰ پر موجود رکھین ۔ شب کو لنڈی کوتل مین قیام
ہوا۔
۳ جنوری ۶۴ امیر حبیب اللہ صاحب نے خیبر کے راستہ سے پشاور کو کوچ فرمایا۔ لنڈی کوتل
جہان مہمانون نے شب کو قیام کیا تھا وہ اور پہاڑ و چٹانین ۔ برف کی اونچی چوٹیان ۔ درے
اُنہون نے پیچھے چھوڑے اور ہندوستانکا ایک وسیع میدان سامنے آگیا ہندوستانین
خیبر سے بڑھکر آیندہ دو ماہ کے عرصے مین کوئی اس قسم کا سفر نہوگا ۔ امیر راستہ مین
خیبر کے ہر حصہ کو نظر غور سے ملاحظہ کرتے ہوئے اور تجسس کی نگاہ سے دیکھتے
ہوئے۔ سوالات بہت ہی تلاش کنندہ کرتے ہوئے جارہے تھے۔ لنڈی کوتل
سے جمرود تک برابر راستے مین چوکیان قایم تھین ۔ پچاس پچاس قدم پر پہرے
لگے ہوئے تھے۔ آفریدی قومین جا بجا سر راہ اشتیاق دید مین بیٹی ہوئی تھین
قریب ایک بجے کے جمرود پہونچے ۔ جو مسافر پہلی دفعہ خیبر مین سے گذرے گا اوسکو
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
