Machine transcription
۴۲
تسخیر ہو جائے گا۔ دلکش نظارون کے اعتبار سے نہین بلکہ ایک فوجی اہمیت
کے لحاظ سے ایک قابل قدر درہ ہے۔ جغرافی طور پر یہ ایک میدان مرتفع ہے جو وادی
کی شان لئے ہوئے ہے جسکی دونون طرفین بلند دشوار گذار پہاڑون سے محصو
ہین۔ یہ آفریدی قومون کا مرکز ہے۔ داہین ناہموار ہین۔ چند سو قدم فاصلہ پر کی
چیزون کا نظر آنا محال ہے۔ لنڈی کوتل سے جمرود تک جسکا فاصلہ بیس میل ہے
یہی حالت نظر آتی ہے۔ جمرود پہونچکر پہاڑون کا سلسلہ ایک پختہ دیوار پر آکر ختم
ہو جاتا ہے۔
لنڈی کوتل سے پانچ بجے صبح افغانی پیدل فوج چھ بجے سوار۔ اور نو بجے خود
اعلیحضرت روانہ ہوئے چلنے والا جلوس میلون تک پھیلا ہوا تھا معلوم ہوتا تھا
گویا کہ کل افغانستان ہندوستان پر چڑھ آیا ہے۔ ہاتھی۔ اونٹ۔ گھوڑے اور
سپاہیون کے چلنے سے جو خاک اڑتی تھی وہ اونکی تعداد کو کئی حصے بڑھاتی ہوئی
معلوم ہوتی تھی۔ اسی شان سے جمرود پہونچے یہان مہمانون نے دوپہر کا کھانا تناول
فرمایا۔
یہان وایسرے کا ٹیلیگرام ملا جسکا مضمون یہ تھا۔ مین یہ سنکر خوش ہوا ہون
کہ یور مجسٹی سرحد کو عبور کر آئے ہندوستان مین قدم رنجہ فرمانے پر مین آپکو دل سے
خوش آمدید کہتا ہوں۔ منٹو۔
اعلیحضرت نے یہ جواب دیا۔ عالیشان برٹش گورنمنٹ کی سرحد کو گزر کر مین انگریزی
علاقہ مین داخل ہو گیا ہون سرحدی افسران نے اپنے فرایض نہایت عمدگی سے
ادا کئے یور ایکسلنسی کی مبارکباد کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہون۔ سراج الملتہ والدین
میجر مرے جنکے سپرد نارتھ ویسٹرن ریلوے پر مہمانون کے سفر کا انتظام
تھا۔ انہون نے چار اسپیشل ٹرین تیار رکھی تھین۔ ایک امیر صاحب کے واسطے
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
