Machine transcription
۲۶۵
معلوم ہوتی ہے۔ جس زمانہ میں سرحدی جنگ ہو رہی تھی اوسوقت ممتر یا جو رو دیگر سرحدی اقوام
ناکام ہوکر جلال آباد میں پہونچے۔ امیرمرحوم نے گورنجلال آباد کوحکم بھیجا کہ ان لوگوں کوتا حکم ثانی
کابل آنے سے روکو لیکن اونکو بطور ایک مسافر مہمان ٹھہراؤ۔
سنا گیا کہ گورنمنٹ ہند کو جب یہ خبر ملی تو امیرمرحوم سے اسبارہ میں استفسار کیا گیا۔ مرحوم
مغفور نے لکھا کہ میں نے کوئی بات خلاف عہد نہیں کی۔ میرے اور آپکے معاہدہ میں کوئی
ایسی شرط نہیں ہے کہ میں اپنے بھائی مسلمانوں کو جو میرے ملک میں بحالت تباہی کسیطرح
پہونچ جائیں۔ میں اونکو ایک وقت کے کھانا دینے سے مجبور سمجھا جاونگا۔ البتہ مجھپر یہ ضرور
فرض ہے کہ آپکے مخالفون کو مدد قوجی یا امداد مالی ندی جاوے اسکامیں سختی کے ساتھ پابند
ہوں۔
اب اسکا ثبوت یہی لیجئے۔ ملاہڈا کا ایک نائب جو شورش جاہلاء میں بڑا محرک تھا ایک
دفعہ اوسکے مقام سکونت پر حملہ ہوا۔ اوس مقام کے باشندے بھاگ گئے تھے۔ گانون میں آگ
لگادی گئی لیکن قبل لگانے آگ کے سردار قبیلہ کے گھر کی تلاشی لی گئی۔ جسمیں سے ایک
فرمان دستخطی امیرمرحوم نکلا جو طلب امداد کے جواب میں تھا۔ فرمان میں تحریر تھا کہ میں جس
گورنمنٹ سے معاہدہ کر چکا ہوں اوسکے خلاف کوئی امرکرنا مذہبًا واخلاقًا بُرا جانتا ہوں۔ اگر
عہد کے خلاف ورزی کرون تو خدا و رسول کے روبرو گنہگار ٹھیرون تم لوگوں نے جو شورش
برپا کر رکھی ہے میں اسکو بھی مذہب کے خلاف جانتا ہوں جنگ اسلامی کے شرائط تمام مفقود
ہیں تمکو اس باغیانہ طریقہ سے باز آنا چاہئے۔
ناظرین یہ ہے راستبازی اور عہد کی پابندی جسکی اسلام تاکید کرتا ہے ہزمیجسٹی نے
سرحدی قوم سے ملنے میں ناحق مضائقہ فرمایا۔ یہ امر بظاہر پولیٹکل حیثیت سے کوئی برا نہ تھا
اگر اون لوگوں سے ملتے اور ہزرمی اپنے عادت و خصلت کی رو سے اون لوگوں کے
تالیف قلوب فرماتے توکچھ عجب نہیں کہ اوسنکے ذریعہ سے وہ گروہ ہماری گورنمنٹ کا مطیع
۳۴
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
