Machine transcription
۲۴۴
قایم ہوا ہوگا اسکا تقاضا ہے کہ اپنی بہادر قوم کو تربیت یافتہ اُسی پایہ کا
بنائین جو موجودہ زمانہ کے لشکرون کی مدافعت مین سپر کا کام دے۔
انبالہ مین امیر شیر علی خان نے فوج کا ریویو دیکھکر جو رائے ظاہر
کی تھی ہز مجسٹی نے اُسکے برعکس رائے قایم فرمائی۔ امیر شیر علی خان
نے قواعد فوج انگریزی کو سُنا ہے کہ ایک طفلانہ کھیل سمجھا ۔ مگر ہز مجسٹی
امیر حبیب اللہ خان نے اُسپر غائر نظر ڈالی۔ فوج کی آراستگی۔ فوج کی
شایستگی۔ فوج کی تربیت ۔ فوج کی قواعد دیکھکر بے ساختہ تعریف کی ۔ اپنے
سرداران کو مخاطب کرکے فوج کی خوبیون کی طرف خاص طور پر متوجہ کیا
اس سے صاف ظاہر ہے کہ اعلحضرت فنون جنگ مغربی سے وقوف
تام رکھتے ہین۔ یہہ واقعہ کابل کے دو فرمان رواؤن کے اخلاق
وسابق وحال کی تہذیب پر ایک حد تک روشنی ڈالتا ہے۔
گو سفر ہز مجسٹی دوستانہ دعوت کی غرض سے اور اُن کا تشریف لانا
بطور سیر و تفریح تھا۔ لیکن غیر ممکن ہے۔ اس دوستانہ ملاقات ومحبت کا اثر
پولیٹکل امورات پر نہ پڑا ہو۔ ایک امر تو یہی بیان کیا جاتا ہے کہ زکا خیل
آفریدی جو سرحدی اقوام مین ایک جرگہ ہے اور جن کا دوستانہ واسطہ
گورنمنٹ انگریزی سے نہین ہے۔ جب اُنہون نے ملاقات چاہی تو ہز مجسٹی
امیر نے اُن کے ملنے سے انکار کر دیا۔
یہان ایک واقعہ عہد ضیاء الملۃ والدین مرحوم کے بیان کی ضرورت
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
