Machine transcription
۲۳۵
همراهان امیر
اعلیحضرت ہزمیجسٹی کے ہمرکاب اکیس سو آدمیوں کی خبر تھی اور اسی تعداد
کے لحاظ سے انتظامات کیے گئے تھے ۔ لیکن گیارہ سو آدمی آئے ۔ جنمین پندرہ
اعلیٰ سردار ۔ چالیس سرداران و افسر درجہ دوم۔ انشی جوانان معتمد باڈی گارڈ باقی
فوج و شاگرد پیشہ اشخاص تھے۔ ہم سرداران اعلیٰ و ذی مراتب کا حال لکھتے ہیں۔
سردار یوسف خان یہ دونوں بزرگوار حقیقی بھائی مصاحب خاص و مقرب اعلیحضرت
سردار آصف خان کے ہیں آپ کے پدر عالی مرتبہ سردار یحییٰ خان خلف سردار
سلطان محمد خان طلائی برادر امیر دوست محمد خان تھے ۔ سردار یحییٰ خان مدت تک
ہندوستان مین بمقام ڈیرہ دون گورنمنٹ انگریزی کے وظیفہ خوار رہے جب وہ
ہندوستان آئے تو گورنمنٹ ہند نے اُن کو احترام سے لیا ۔ اور سولہ سو روپیہ ماہوا
وظیفہ مقرر فرمایا ۔ یہ دونوں سردار بھی اپنے پدر عالیقدر کے ساتھ تھے۔
سردار آصف خان بعہد امیر یعقوب خان گورنر لغمان تھے ۔ ان کی حقیقی
ہمشیر امیر یعقوب خان کی خاتون ہیں۔ سردار یوسف خان ہزمیجسٹی امیر کے خسر ہین
ضیاء الملۃ والدین امیر مرحوم نے سردار یحییٰ خان کو بڑی محبت و آرزو کر
بلایا اور اُس اعزاز سے جو گورنمنٹ انگریزی میں تھا بڑھکر اعزاز فرمایا۔
علی آباد مین جو کابل سے تین میل فاصلہ پر ہے ایک نفیس عالی شان کوٹھی رہنے کو
عنایت کی۔
اب ہزمیجسٹی امیر بھی ان اپنے عزیز مصاحبوں کی بدرجہ غایت عزت فرماتے ہیں چونکہ
لے سردار سلطان محمد خان امیر دوست محمد خان کے بھائی بڑے ہوشیار اور دلاور تھے۔ کابل کے فرمانروا ہو کر پشاور میں رہے۔ سکھونکے سردار ہری سنگھ نلوہ کو سردار اکبر خان اور سردار عبداللہ وسیس خان فرزند دوست
محمد خان نے تہ تیغ کیا ۔ مگر سردار سلطان محمد خان کے خلف الصدق بھی کابل میں دُودیہ لقب طلائی مشہور تھے ۔ یعنی جب یہ پہنا کر و پہنا لباس زردیا سنہرے گوٹہ کا تمام ساز و سامان طلائی رکھتے تھے ۱۲
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
