Machine transcription
۲۳۴
ثابت ہوتا ہے جو ہز مجسٹی نے جمرود پر کی تھی جسکا لب لباب یہ ہے کہ اگر
مین مہمان بنکر ہند مین نہ آتا تو مجھے اس خلوص اور یکجہتی گورنمنٹ برٹش کا صحیح اندازہ
ہونا محال تھا۔ یہ ایک اعجاز قانون میزبانی ہے۔ گو عوام نہ سمجھیں مگر استحکام کا یہ
بنیادی تہہ ہے۔
سرحد کے قلعون کے سلسلے۔ لشکرون کے ہجوم اور معاہدون کے شرائط
ہرگز یہ استحکام پیدا نہ کرسکتے تھے جو لارڈ منٹو کے اس اخلاق مہانداری نے پیدا کیئے۔
ہندوستان کے مسلمانون پر جو بہترین معنوی اثر ایسے حسن مراسم سے پڑا ہی
وہ ایسی چیز نہیں جو کسی بیان مین آسکے۔ صرف مسلمانون کے دل جانتے ہیں
اور مسلمان ہی اس کو پہچانتے ہیں۔
اگر ہمارے مضمون کی حد سے باہر نہ ہوتا۔ یا ہمکو حدود پالٹیکس مین مداخلت بیجا کا
احتمال نہ ہوتا تو ہم ضرور اُس محفوظ ومستحکم پالیسی کی بھی تشریح بیان کرتے
جس کی وجہ سے قابل وایسرائے حال نے قرنون کی مجرور رفتار ترقی کے
بُرے اثرون کو حدّ خاص سے آگے بڑھنے نہ دیا۔ اور اپنے وقار۔ رائے
اور جذہون کے عزم سے ترازوئے سلطنت مین پلّہ جات متقابل
کو اعتدال سے ہٹنے نہ دیا۔
ہز اکسیلنسی مین وقار خاندانی کے ساتھہ علم وفضل۔ متانت و تہذیب
اخلاق و تدبیر کے جوہر موجود ہیں۔
وہ مختلف جنگون مین شریک ہوے اور ولایت کے مختلف رسالون مین علمی
مضامین اُن کے قلم سے نکلے وہ اہل قلم ہی ہیں در اہل سیف بھی۔ ہز مجسٹی شاہ
افغانستان سے محترم مہمان کا لارڈ منٹو سا مغزز میزبان ہونا چاہیے تھا۔ ہم ہز اکسیلنسی
لارڈ منٹو کے علم وفضل کے معترف اُن کے احسانون کے مشکور ہیں۔
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
