Machine transcription
۲۲۷
ایک قوم کا تمدن ناز کرتا ہے اور یہی سامان جب اعتدال سے بڑھتے ہیں تو زوال کا باعث ہیں
عرب نے جسقدر تمدن میں ترقی کی اسیقدر ان میں زوال آتا گیا وہ سادہ تمدن جسکو
قایم رکھنے کے لیے اسلام نے اصول و قواعد باندہ رکھے ہیں انکا دستور العمل رہا
اور جسوقت اس سے تجاوز کیا وہ حقیقی ترقی کے زینہ سے نیچے آرہے اگر چہ وہ
خود اور تمام دنیا خیال کرتی تھی کہ وہ عروج کر رہے ہیں ۔ خلفاء راشدین رض کا
خلفاء بنی امیہ و بنی عباش سے مقابلہ کیا جاوے اور مدینہ و دمشق و بغداد کی شہریت پر
غور ہو تو زمین وآسمان کا فرق معلوم ہوگا۔ خلفاء کے قصر کا تو ذکر کیا صرف مساجد
کی تعمیر میں مختلف زمانوں میں جو کچھ تغیر واقع ہوا اُس سے اس امر کی تائید ہوتی ہے
کہ عرب سادگی کو چھوڑ کر نمایشی تمدن کو ترقی دے رہا تھا۔ صدر اسلام میں مساجد
صرف اس غرض سے تعمیر ہوتی تھیں کہ لوگ ایک جگہ جمع ہو کر نماز پڑھیں اور
اس لیے ہر ایک شہر میں ضرورت سے زیادہ مسجدیں کہبی تعمیر نہ ہوئیں نہ انکے
محراب و منبر نقش و نگار سے آراستہ تھے۔ اسلام نے ہر ایک امر میں اتفاق
کو مدنظر رکھا ہے ۔ لہذا نماز باجماعت کی تاکید ہے اور اسی لیے مساجد تعمیر ہوئیں
ورنہ بعض حالتوں میں تو اسکی ہی کچھ ضرورت نہیں۔ تمام زمین پر ہر ایک مسلمان
جس جگہ چاہو نماز پڑھسکتا ہے اپنا آپ امام اور آپ مقتدی ۔ عبادت کے لیے کسی
معابد و گرجا کی ضرورت نہیں۔ احکم الحاکمین کے حضور فرش خاک پر سجدہ کرنا
حقیقی خشوع و خضوع پیدا کرتا ہے۔ قالین یا ریشمین مصلے دل کو نرم نہیں بنا سکتے
پتھر کا فرش سنگدلوں کو موم نہیں کرسکتا۔
تاریخ عالم موجود ہے اگر ہم ان اسباب پر غور کریں جو مختلف اقوام کی ترقی کا باعث
ہوئے اور ان اسباب پر فکر کریں جو اُن کے تنزل کے وجوہ ہیں تو ہم یقیناً
اس نتیجہ پر پہنچ جائینگے کہ کسی قوم کی حالت میں تغیر واقع نہیں ہوتا جبتک کہ جادہ
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
