Machine transcription
۲۳۴
تمدن یا فیشن کلام الملوک ملوک الکلام۔ یہ مقولہ ہر سلطنت کے خزاین معقولات کی کلید
مستحکمہ میں سے ہے۔ فن معاشرت میں یہ بات بدیہات سے قرار دی گئی ہے
کہ کسی قوم کی مجموعی قابلیت اُسکی سلطنت کی شکل میں عمل کرتی ہے۔ یا یوں کہنا چاہیے
ہر سلطنت میں افراد قومی کی قابلیت کا نمونہ اُسکی سلطنت ہوتی ہے۔ ہمیں خواہ
کلام ۔ خواہ وضع ۔ خواہ لباس شمار کر لیا جاوے۔ اسی بنا پر مدبران وقت کی
اجازت نہیں کہ عامہ خلایق رموز سلطنت سے متفحص ہو۔
کسی مضمون پر بحث کرنے کے لیے ضرور ہے کہ بحث کرنے والا اُس فن
کی تفصیل اور موضوعات سے واقف ہو۔ چہ جائیکہ بحث مضمون سلطنت سے
ہو اُسکے مراتب اُس کی رفعت اور اُسکا جلال ہمیشہ معمولی علم سے خارج اور معمولی
نگاہوں کو خیرہ کرتا ہے۔
ہم نہیں چاہتے تھے کہ ایسی بلند ہواؤں کی آمد و رفت سے بحث کریں۔ چونکہ
یہ بحث زبان زد خاص و عام ہوچکی ہے لہذا ضرور ہوا کہ اسکے مالہ و ما علیہ پر
ایک نظر سرسری ڈالی جائے۔
بادشاہوں و سلاطین پر جو اعتراضات ہوتے ہیں اُن کا مجیب ہمیشہ الزام
تملق کے خطرہ میں رہتا ہے۔ مگر اس ڈر سے اپنے منصبی فرض کو ترک کرنا نہ صرف
دلیل کمزوری وجبن ہے بلکہ اُس حق کا خون ہے جو ہر مورخ کی گردن پر اُن فرمانروا
عالم کا ہے جو اپنی زندگی ملک و قوم کی صلاح و فلاح میں صرف کرتے ہیں
ناعاقبت اندیشان و گوشہ نشینان ضرور ہر مجسٹی امیر افغانستان پر یہ اعتراض
بھی کرتے ہیں کہ سیاحت ہند میں اعلیحضرت نے مالی حسن نظم و تتبع لباس اجانب
کیا سب سے پہلے ہم کو وہی معذرت پیش کرنا ہے جسکا ذکر اجمالاً اوپر کر آئے ہیں یعنی ع
رموز مملکت خویش خسروان دانند
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
