Machine transcription
۲۲۵
اُس کے بعد یہ کہنا ہے کہ جہان تک ہم کو علم ہے اعلحضرت امیر کے اخراجات
اس سیاحت ہندمین تین قسم سے خالی نہ تھے۔
اوّل امورمفیدعام کی اعانت۔ دوسری خیرات۔ تیسری تحفظ شان جوسلاطین کے شایان ہو
اوّل قسم مین وہ عطیات خسروانہ ہین جو آپ نے علی گڈھ کالج وحمایت الاسلام
لاہور وغیرہ کے لیے مبذول کیے ۔ دوسری نذرات جوزیارت ومجاورون پر
ارزانی فرمائے یا غیر مذاہب کے معابد ومنا درکوعطا کیے اسی قبیل سے
ہن کے وہ اصراف ہین جو فینسی فیر وغیرہ مین محتاجونیکیلئے کیے گئے فینسی فیر
اہل مغرب کے یہان وہ خاص موقعے ہین جہان میلے کے طور پر نفیس نفیس چیزین
دولتمدون کی لیڈیان تاجرانہ شکل مین امراء کے سامنے پیش کرتی ہین۔ اور
اُن کے محاصل سے حاجتمند وغربا کی مددکیجاتی ہے۔
ایسے موقعون پر خریدفروخت نہ تجارت کی غرض سے ہوتی ہے نہ نمائش کے خیال سے بلکہ محض
امدادی اغراض وکارخیرکی بناء پر۔
تیسرے وہ صرف جواپنی تحفظ شان ومرتبہ یاضرورت ملک کیخاطر کیے گئے مثلاً
ایک بادشاہ جسکی قوم سپہگری کے لیے نام آورہوغیرملک کیتجارکے یہان
گھوڑے یا دیگر اسباب حرب دیکھے تو نہ صرف بلحاظ تہذیب بلکہ باعتبارضرورت
اُس کو کچھ نہ ریدنا لازمی ہوجاتا ہے۔
اسیطرح ضروریات لباس جو ایک ملک مین نہ ہوتی ہون اور دوسرے ملک کے
اثنا ء سیاحت مین پیش آئین تواُن کا خریدکرنا ایک امرضروری خیال کیا جاتا ہے
معترضین سے ہم کو فقط اتنا پوچھنا ہے کہ اعلحضرت کے مصارف عالیہ مین سے
کوئی جزو ان اغراض مناسبہ کے مخالف یامنافی ہوا ہے۔ اگر نہیں ہے تو
اُن کی مقدس ذات پر حرف گیری کرنا ایک بڑا گناہ اپنے ذمہ لینا ہے اگر کوئی
۲۹
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
