Machine transcription
۲۲۳
ہین۔ وہ بزرگ امیر تیمور کو لیکر پیشگاہ حضور مین با ادب حاضر
ہوئے اور عرض کی کہ یہ شخص سلطنت چھوڑ کر درویشی کا
متمنی ہے۔
حضور اقدس نے ارشاد فرمایا کہ اے امیر تیمور سلطنت
انعام الٰہی ہے۔ تم کو تلوار اس لیے عطا ہوئی ہے کہ دین الٰہی
کی مدد کرو۔ بندگان خدا کی حاجتین بر لاؤ۔ یہی تمہاری ولایت
و درویشی ہے۔
یہ واقعہ اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ ایک منصف باخدا
عادل۔ رعیت پرور بادشاہ کا مرتبہ ہرگز کسی صاحب روحانیت
بزرگ سے کم نہین۔
بادشاہ کی ایک ساعت کا انصاف عبادت صد سالہ کی برابر ہے
هز مجسٹی امیر افغانستان کے حالات خود اس امر
کے شاہد ہین کہ ان کا عہد حکومت۔ کیسا مبارک۔ اور
با انصاف دور ہے۔ ان کو اپنی جہانبانی کے ذمہ دارانہ
فرائض ادا کرنے مین کس درجہ انہماک ہے ۔
پر اون مین ایک تارک الدنیا امام ۔ یا گوشہ
نشین صاحب سجادہ کے خصایل کی جستجو یا انسانی
دائرہ سے بڑھ کر کسی فرشتہ کی خو بو تلاش کرنے
حدود دانش سے بالکل علیحدہ ہے۔
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
