Machine transcription
۱۳۹
صید از حرم کشد خم جعد بلند تو
فریاد از تطاول مشکین کمند تو
جو بزرگوار بظاہر ان سے بچنے کے مدعی ہیں خوبصورتوں کو دیکھکر جوان پر بخاتی ہے
انہین سے پوچھئیے ؎
دیر برہمن ناقوس آسا نالہ زن ہستم | مبتے دیدم خدا یاد آمد و از خویشتن رفتم
مل جانے پر وہ خاطرین کیجاتی ہیں کہ رندوں سے نہ بن پڑین وہ نازبرداریان ہوتی ہیں
کہ محبت و پرستش میں امتیاز باقی نہین رہتا ؎
تجھکو زاہد نے نہ دیکھا جو نباہی توبہ | تو تو وہ توبہ شکن ہے کہ الٰہی توبہ
تمام سامان راحت بیعزہ۔ تمام تکلفات بیکار۔ اگر عورتین نہ ہون ؎
بے یار روز عید شب غم سے کم نہیں | جام شراب دیدۂ پر نم سے کم نہین
وقت نہیں معلوم ہوتا تو انہین کی صحبتون مین۔ رنج نہین آنے پاتا تو انہین کی حضوری مین
ان اچھی شکل والون سے اگر کوئی نہیں ہوتا | تو اُس محفل مین ہنسنے بولنے کو جی نہیں ہوتا
ہر شخص کو کم و بیش ایسے موقعہ اپنی زندگی مین پیش آئے ہوں گے کہ اچھی صورتوں کے
ساتھ باتین کرتے کرتے صبح ہوگئی ہوگی اور وقت گزرنے کا پتہ نہ چلا ہوگا۔ یہی وجہ ہے
کہ ایشیائی شعرا شب وصال کو کوتاہ اور ہجر کی رات کو دراز باندہتے آرہے ہیں ورنہ ہر
شب مین وہی چار پہر بارہ گھنٹے ہوتے ہیں ؎
کہون کیا کیسی جلدی وصل کی شب ہا گئی آخر | رخ روشن ادہر دیکھا ادہر تنمابور کا تڑکا
تلافی درد و مصیبت عورت ہی سے ہوتی ہے اور ملال مین ترقی اس کی مفارقت سے
چمن و گلستان کیسے ہی سبز و شاداب ہون بغیر ان کے خارستان محل و قصر آراستگی سے
بقعہ نور ہی کیون نہ بنے ہون اگر کوئی حور پیکر نہیں تو وحشت کدے خلد کو بھی حورٌ
مَقْصُورَات فِی الْخِیَامِ کی بشارت نے بہشت بنایا ہے جی لگتا ہے تو کسی حور پیکر
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
