Machine transcription
۱۳۲
شاہ مظفر الدین چند بار یورپ تشریف لے گئے ان صحبتون مین جہان لیڈیان تھین شرکت
فرمائی۔ خدیو مصر ہر سال یورپ جاتے ہیں۔
ان واقعات کی موجودگی مین ہزمجسٹی امیر افغانستان پر سفر ہند کے متعلق کہان تک موقع
نکتہ چینی ملتا ہے۔ ہر صاحب انصاف اسکا خود تصفیہ فرمالے گا۔ محبت کی آنکھ کبھی
نکتہ چینی کی جانب مائل نہین ہوتی۔ یہہ صرف مخالفت کی نگاہ ہے جو ہنر کو بھی
عیب بناکر پیش کرتی ہے۔
وعَینُ الرّضا عن کل عَیبٍ کلِیلَۃٍ | وَلاکِنَّ عَینُ السَّخطِ تَبدی المَساوِیا
اب ایک اور پہلو سے اس بحث پر نظر کیجیئے
اور کچھ جب اُسے ٹھرا نہ سکے حُسن پر ست | شانِ اللہ کی محبوب کی صورت ٹھری
اگر جمالِ خداوندی کا بدرجہ اتم کوئی مظہر ہو سکتا ہے تو عورت
ہے۔ یہہ مقولہ بظاہر ایک شاعرانہ لطیفہ معلوم ہوتا ہے لیکن نظر تعمق سے دیکھا جائے
تو اس مین مبالغہ شاعری یا بُعدِ واقعیت نہین۔ مذہبی پاک ارشادات اسکی تائید
کرتے ہیں۔ انسان کی آفرنیش اور اسکا اس ہیئت کذائی سے مخلوق ہونا عام طور پر
اِنَّ اللہ خَلقَ ادم علٰی صُورتہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور انسانی ہستی مین نفختُ فیہ
مِن رُوحی کا دلآویز ارشاد موجود ہے جس سے اسلامی دنیا مین کوئی تعلیم یافتہ
انکار نہین کر سکتا۔ حضرت امام اکبر محی الدین ابن العربی بھی اسکی تائید فرماتے ہیں۔
یہہ استدلال اس امر کے ثبوت کے لیے کافی ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی ذاتِ
اقدس کے ساتھ کیسا قرب اور اُس خالق بے ہمتا کو اپنی مخصوص مخلوق کیساتھ کس قدر
شفقت ہے جو ایسے وقیع لفظون مین خطاب دیا گیا۔ اللہ تعالے کو انسان کیساتھ
خاص شوق و غیر معمولی توجہ ہے واللہ رؤفٌ بِالعباد واللہ بصیرٌ بالعباد
بیشک اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر بنایا
مین نے اُس مین اپنی روح پھونکی
جمال خداوندی کا مظہر اتم عورت ہے
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
