Machine transcription
کے لایق۔ امیر مرحوم اپنے سوانح مین لکھتے ہین کہ آئندہ زمانہ مین افغانستان اسوقت
تک کامل ترقی نہ کرسکیگا جب تک اس کی عورتین تعلیمیافتہ نہ ہونگی۔
بچے اپنا پہلا سبق ماؤن سے لیتے ہین اور جو خیالات بچپن مین جاگزین ہوجاتے
ہین وہ عُمر بھر انسان کی عادات و خصائل دل و دماغ پر اسقدر حاوی رہتے ہین کہ بعد کی
تعلیم انہین زائل نہین کرسکتی۔
ایسی صورتون مین اگر اعلحضرت نے ان صحبتون مین گزر فرمانا جائز رکھا تو کیا نعوذباللہ
یہ ام اُن کے تشرع و زہد پر دھبہ لگاتا ہے۔ یا اُس الزام کا مورد بناتا ہے جو ایشیا
کے آخر ناعاقبت اندیش فرمانروایون کا حصہ تھا۔ اِنّمَا لَاعمَالُ بِالنّيَّاتِ
ایک ہی فعل سے صاحب تقوی کو مستحق ثواب بناتا ہے اور وہی فعل باختلاف نیت
غیر متشرع کو مورد عذاب ٹھہراتا ہے۔ گو تمام سفر مین اعلحضرت شاہ افغانستان کے
ہر قسم کے افعال نے اُن کو اہل تمیز کی نگاہون مین ایک مثیل واجب التعظیم فرمانروا بنایا
مگر آپ کی مرتبہ شناسی ایسے موقعون پر تائید منجانب اللہ تصور کی جاتی ہے۔ اسلیے
کہ بجز ان مواقع کے باقی سب صورتین ایسی تہین جو اپنے ملک مین کم و بیش روز پیش
آتی ہین اور اُن سے وقوف تام کوئی امر تعجب انگیز نہین مگر ایسی صحبتین ایک امر نادر الوقوع
تہین اور ان صحبتون مین جہان نگاہ کی حرکت سے پلہ تہذیب میزان امتحان مین جھکتا
اُٹھتا ہے۔ سرمو جادہ حُسن مذاق اور وقار سے نہ گزرنا نہ صرف تعجب انگیز ہے بلکہ
بے اختیار اعلحضرت کے لیے لِلّٰهِ دَرَكَ وَاَحْسَنْتَ کہلواتا ہے۔ المعظم
سفر یورپ بڑے بڑے سلاطین نے کیا ہے سلطان عبدالعزیز خان موجودہ سلطان
حضرت سلطان عبدالحمید خان کو ہمراہ لیکر عازم سفر یورپ ہوے وہان تمام صحبتون
مین گذُرسر بایا حضور ملکہ معظمہ کے مہمان رہے۔
شاہ کجکُلاہ حضور ناصرالدین شاہ ایران کا سفر نامہ اُن کی حالت سیاحت کا خود گواہ
بعد دیگرے گواہ ہے؟
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
