Machine transcription
۱۰۳
دربار عید الاضحیٰ دھلی
ہندو مسلمان دونون کو دل آزاری کی ممانعت
اور آپس مین اتفاقا سے زندگی بسر کرنے کی ہدایت
بروز عید الاضحیٰ شاہ افغانستان نے دہلی کے عمایدین
ہندو مسلمانون مین سے بعض کو شرفِ ملازمت بخشا ۔
وقتِ ملاقات فرمایا کہ آج ہمکو معظم ترین شہر ہند مین نمازِ عید ادا کرنے سے بڑی مسرت۔
اپنے دوست کے گھر مین عید ہونے سے نہایت خوشی۔ اپنے مسلمان بھائیون کے ساتھ
نماز پڑھنے سے کمالِ فرت وعید ہوئی۔
اہلِ ہنود صاحبان کو مخاطب کر کے ارشاد کیا کہ افغانستان مین دربارِ عید کے موقع پر
ہم نہایت خوشی سے ہندوؤن کو شریک کرتے ہین۔ آج قربانی گائے کو محض دل شکنی
ہنود کا باعث سمجھکر ملتوی کیا اور اسکے بجائے دُنبہ وبکرے کی قربانی مناسب خیال کی
ہم اخبار پڑھتے رہتے ہین ہمنے افسوس کے ساتھ ان خبرون کو پڑھا جو ہندو
مسلمانون نے ایک دوسرے کی آزار دہی و توہین کی غرض سے حرکاتِ لغو کین۔
مسلمان ۔ ہندو ایک ملک کے باشندے ہین ایک گورنمنٹ کی رعایا ہین جس نے
انہین ہر طرح کی انسانی ومذہبی آزادی دے رکھی ہے۔ ہندو مسلمانون کے تعلقات
ملکی تجارتی وغیرہ جسمین ایک دو سر یکا نفع ہے بکثرت ہین ۔
دونون فریقین کو ہرگز ایسی بات نہ کرنا چاہیے جو کسی کی دل آزاری اور دلشکنی کا باعث
ہو۔ آپس مین موافقت کے ساتھ رہنا ان کی بہتری کا سبب ہے۔
اس نصیحت کو بڑی مسرت سے لوگون نے سنا اور اعلان کیا۔ آپس مین اتفاق
کی بنیادین مستحکم کرنے کے لیے انجمنین تجویز ہوئین ۔ خدا کرے یہہ ہدایت کارگر ہو۔ دنیا
مین اتفاق سے بڑ کر کوئی خوبی نہین ۔ کون شخص ہے جسکو اتفاق کی خواہش نہ ہو۔
اُس سے زیادہ بد اندیشِ ملک و قوم نہین جو اسکا مخالف ہو۔ مگر حالاتِ ملک اسکے
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
