Machine transcription
میں احکام شریعت اسلام جاری ہیں یہاں کوئی شراب نہیں پی سکتا کوئی زنا وغیرہ نہیں
کرسکتا اس لئے اگر یہاں کا آدمی آزاد ملک میں جائے گا تو اُسکے خراب و برباد ہونے کا
اندیشہ ہے جب انسان کسی مذہب کا پابند نہیں رہتا اور آزاد مشرب ہو جاتا ہے تو اُسکے
اخلاق و عادات خراب ہوجاتے ہیں اسلئے اہل یورپکا بغرض مذکورہ افغانستان میں آنا
بہتر ہے ۔ میں یہ سنکر نہایت متحیر ہوا کہ اعلیٰ حضرت کو لفافہ کے اندر کا حال کیونکر معلوم
ہوگیا مجھ کو متحیر دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ میرے نزدیک ولی اور عقلمند آدمی میں صرف اتنا فرق ہے
جیسا ٹیلی فون اور تار میں یعنے ٹیلی فون میں انسان کو عقل و غور کی زیادہ ضرورت نہیں ہے
جیسا کسی نے کہا آواز آگیا لیکن تار میں عقل و غور اور علم کی ضرورت ہے یعنے اُسکے اصطلاحات
کا معلوم ہونا کھٹکا صحیح معلوم کرنا اسی طرح ولی کو بذریعہ الہام وحی معلوم ہو جاتا ہے کہ آئندہ
ایسا ہوگا یا ایسا ہوا۔ عقلمند زمانہ کے حالات و رفتار سے معلوم کر لیتا ہے کہ آئندہ ایسا ہوگا۔
ان تمام مذکورہ بالا امور سے ظاہر ہے کہ جب ایسے عقلمند و مدبر و بزرگ شاہ اسلام کے زیر
نگرانی وہ حصہ عمر کا گذرا ہو جو تعلیم کے واسطے مخصوص ہے تو اُن تمام خوبیوں کا جو اعلیٰ حضرت
خلد آشیان کے وجود مبارک میں قدرت نے پیدا کی تھیں حضرت سراج الملہ والدین خلداللہ
ملکہ کے وجود مبارک میں ہونا ضروری امر ہے کیونکہ طبیعت انسانی کا خاصہ ہے کہ جوعادتیں
یہ بضرورت اختیار کرتا ہے وہ رفتہ رفتہ اس کی طبیعت ثانیہ ہو جاتی ہیں۔ بقول حضرت
سعدی رحمۃ اللہ علیہ ؎
گلے خوشبوئے در حمام روزی ٭ رسید از دست محبوبی بدستم ٭ بدو گفتم کہ مشکے یا
عبیری ٭ کہ از بوئے دلاویز تو مستم ٭ بگفتا من گل ناچیز بودم ٭ ولیکن مدتی با گل
نشستم ٭ کمال ہمنشین در من اثر کرد ٭ وگرنہ من ہمان خاکم کہ ہستم ٭
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
