Machine transcription
۶۰
ہز مجسٹی کے ایڈیکانگ نے ہر ایک کو پیش کیا ۔ پہلے خود اعلحضرت
نے عید کی مبارکباد دی ۔ علی الترتیب حاضرین نے کلمات تہنیت
ادا کیئے ۔ شمس العلماء مولوی حافظ نذیر احمد صاحب نے مصافحہ کے
ساتھ یہ شعر پڑہا ہے
عید و عید و عید صر مجتمعه وجه الحبيب و يوم العيد والجمعه
(آج کے دن تین عیدین جمع ہوگئین ایک وجہ حبیب شاہجہان ہزمجسٹی) دوسری عید تیسرا جمعہ
جکو سُنکر اعلحضرت متبسم و مسرور ہوئے ۔ پہر سب لوگونکو کرسیون پر
بیٹھنے کی اجازت دی گئی ۔
بعدہ دہلی مین عید ہونے سے جو مسرت ہوئی اسکا اظہار فرمایا۔ اپنے
خیالات بے آزاری و بے تعصبی کا ذکر کیا اور یہ شعر پڑہا ۔
مباش در پئے آزار ہر چہ خواہی کن که در طریقت ما غیر ازین گناہ نیست
ہندو و مسلمانون کو آپس مین اتفاق سے رہنے محبت سے پیش آنے
اور آرام دہ زندگی بسر کرنے کی تحریک فرمائی ۔
کارخانہ جات کے تذکرون مین یہ ارشاد کیا کہ مین سیر و تفریح کی غرض سے
کارخانون کو نہین دیکہتا پہرتا۔ مسلمانون سے خاص طور پر فرمایا کہ آپ لوگ
یہ سُنکر خوش ہونگے کہ افغانستان مین اسلام کی حالت بہت اچھی ہے۔
وہان ممنوعات شرعی کا ارتکاب کوئی شخص نہین کرسکتا۔
بنگ چرس ۔ شراب ۔ زناکاری بند ہے ۔ ناچ و باجے کے واسطے سازندہ
بھی میسر نہین آسکتا۔ محتسب مقرر ہے وہ ان اُمور کی نگرانی کرتا ہے۔
ہندوؤن کو اپنے فرائض مذہبی بجا لانے مین آزادی حاصل ہے
اُن کے حقوق کی پوری حفاظت کیجاتی ہے۔
لے
معنے اتفاق اسخنون
جداگانہ ہی بحث
کی ہے ۔
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
