Machine transcription
۵۹
سے پرہیز فرماتے ہیں تو اپنے بھائی مسلمانون کو ناممکن تھا کہ وہ رنجیدہ کرتے۔
اسکی تائید مین یہہ کافی ہے کہ جب دہلی مین اطلاع دی گئی تو آپ
عیدگاہ وجامع مسجد مین جوتہ اُتارکر اندر گئے۔
۲۴ جنوری ۱۹۰۷ء۔ آج صبح پونے چھہ بجے دہلی واپس تشریف لائے۔
مقامی حکام نے حسب ضابطہ استقبال کیا۔ بعد ناشتہ کے بُرش افسران
و افغان سرداران کو ہمراہ لیکر گنیش فلور ملز کا معائنہ کیا۔ کارخانہ کا بیرونی دروازہ
جھنڈیون و ہریریون وپھولون اور خیر مقدم کے قطعات سے آراستہ
کیا گیا تھا۔ مینجنگ دائرکٹر و منیجر وغیرہ نے رسم استقبال کو ادا کیا۔
منیجر نے کارخانہ کی سیر کرائی۔ ہز مجسٹی نے مشین کے متعلق بہت سے سوالات
کیے اس کارخانہ کے بعد ہندو بسکٹ فیکٹری وجنا کاٹن ملز کو نہایت شوق کہ ملاحظہ فرما
۲۵ جنوری ۱۹۰۷ء۔ آج روز عید ہے۔ ہزمجسٹی شاہ افغانستان نے نماز عید کی
عیدگاہ مین اور نماز جمعہ جامع مسجد مین ادا فرمائی امام عیدگاہ و امام جامع مسجد کو
خلعت عنایت فرمائے۔ دونون عبادتگاہر مین جوتہ اُتارکر تشریف لیگئے اسکی
وجہ یہہ ہے کہ اسکے متعلق یہان عرض کیا گیا تھا۔ سرکٹ ہوس جو قیامگاہ اعلحضرت
ہے اُسکے دروازہ پر قطعہ ذیل نہایت خوش قلم تحریر تھا۔
خوشا عیدے کہ نشو میزبان است
خوش و خوشتر امیرش مہمان است
شہ کابل که رونق بخش دهلی است
مقام شکر و جای امتنان است
اہل دھلی مین سے چند معززین ہند و مسلمانون کو دربار
عید مین شرف ملازمت بخشا۔
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
