Machine transcription
۳۸
اور مسلمان صاحب ثروت و متمول بھی ہوں اور ہم مسجد کی یہ حالت دیکھیں بڑے
شرم کی بات ہے اس ناخوشی کی نسبت فقیر صاحب دانے اغزا نے شہرت دی
کہ یہ احر انہیں کی تحریک معنوی کا نتیجہ تھا۔ خدا جانے اصلیت کیا تھی مگر اسمیں شک
نہیں کہ اسکے بعد سے میان کریم بخش کے مزاج میں صلاحیت آگئی اور فقیر صاحب
کی پشاور میں دھاک بندھ گئی۔
پہر کے وقت ہر میسٹی امیر نے پولو کا ملاحظہ فرمایا۔ مجسٹی نے یورپین
حکام سے اسکے متعلق اظہار پسندیدگی کیا گفتگو حکام سے ہوتے ہوتے کلام
کا سلسلہ یورپین لیڈیوں تک پہونچا۔ ان سے بہت اخلاق و تہذیب سے
باتیں کیں۔ سرداران افغانی نے بھی اپنے بادشاہ کی خوشدلی کی تقلید کی۔ دکن
ریویو نمبر ۲ شنماء میں تحریر ہے کہ پولو کا کھیل ایران سے نکلا ہے سن عیسوی سے
کئی سو برس پہلے اسکے رواج کا پتہ لگتا ہے ۔ پولو کے قدیم ایران میں رائج ہونے
پر ایک نہایت عمدہ مضمون شمس العلما دستور رتن پشتو بن سنجانا نے لکھا ہے۔
آج شب کو چیف کمشنر نے گورنمنٹ ہوس میں ایک مکلف ڈنر دیا ۔ مہمان وقت
مقررہ پر پہونچے ۔ سر ہیرلڈ ڈین مراسم استقبال بجا لا کے ملاقات کے کمرے میں
لائے۔ دیگر مہمان پہلے جمع ہو چکے تھے بآواز بلند کہا گیا کہ حضرات ہرمجسٹی امیر
افغانستان تشریف لائے یہ سنکر سب نے مراسم اداب ادا کئے۔ اسکے بعد سرڈین
ہر مجسٹی امیر کو اور مسٹر گرانٹ سرداران افغانی کو اپنے ساتھ کھانے کی میز پر لے گئے
یورپین لیڈیاں پس پردہ یہ کیفیت دیکھ رہی تھیں۔ کھانا مغربی طریقہ پر تھا۔ امیر صاحب
نے اس بے تکلفی سے کھایا کہ گویا وہ اسکے عادی ہیں۔ یورپین تہذیب کے موافق
دوران کھانے میں ہر مجسٹی ۔ سر ہیرلڈ ڈین و سر ہنری مکمہون سے گفتگو کرتے جاتے
تھے۔ بعد فراغت مذاق ہوتا رہا۔ پھر سر ہیرلڈ ڈین اٹھے اول قیصر کا جام صحت
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
