Machine transcription
۳۸
سے افغانستان کو سالانہ دیجاتی ہے۔ ایک مدت تک معرض التوا مین رہی۔ اسوجہ
سے عوام مین مختلف افواہین پھیلی ہوئی تھین یہ امر بہت قرین قیاس ہے کہ اسبارہ مین
لارڈ کرزن نے سفیر دولت خداداد افغانستان مقیمہ ہندوستان سے مشورہ نہ لیا
ہوگا۔ اونکے تحکمانہ مزاج و خودرای نے اسکو گوارہ بھی نہکیا ہوگا۔ ورنہ یہان تک
کشیدگی کی حالت و انکار دعوت کی نوبت نہ واقع ہوتی
اب لارڈ منٹو نے جن محبت آمیز دوستانہ پیرایہ مین مدعو کیا تھا اوسکا تقاضا یہ تھا
کہ اخلاقا قبول دعوت مین کوئی انکار نہکیا جاوے۔ پھر شہزادہ کامگار معین السلطنت
سردار عنایت اللہ خان ۱۹۰۴ء مین بطور سیاحت ہند تشریف لائے اونکی مدارات
شاہانہ کی گئی۔ جس وقار و تمکین سے اس نوجری مین شاہزادہ موصوف نے زمانہ
سیاحت کو بسر کیا اوس سے تجربہ کاران یورپ و ہند کو حیرت و استعجاب ہے۔ ساتھ ہی
وہ خود بھی محظوظ ہوکر یہان سے محبت و مہمان نوازی کے پاکیزہ خیالات اپنے ہمراہ لے گئے
یہ منظوری دعوت کا سبب خاص ہوسکتا ہے۔
بڑی وجہ یہ ہے کہ مہمان بادشاہ کو اپنی ملکی حالت سے ہر طرح اطمینان ہو گیا تھا کہ اب
غیر حاضری ملک اونکو ضرر رسان نہوگی اسپر بھی بمرزید احتیاط اونہوں نے قبایل و جرگہ کے
سردار و با اثر اشخاص سے مشورہ کیا اور بعد اطمینان قلبی قصد فرمایا۔
قیاس چاہتا ہے کہ بوجوہ جلیہ و متین۔ رمز شناس روشن خیال وایسراے نے اسباب
مین قبل پیام دعوت جن لوگون سے کہ مشورہ کی ضرورت سمجھی گئی ہوگی دریغ نہکیا ہوگا
خصوصاً کرنیل سردار محمد اسمعیل خان صاحب کی قبول دعوت مین تحریک ہو تو تعجب
نہین اول پروگرام سیاحت مین مقام کلکتہ نہ تھا۔ امیر صاحب کی خواہش پر اسکا اضافہ کیا
گیا۔ حضور وایسراے نے کمال مسرت و فرط محبت کا اظہار کیا اور لکھا کہ چونکہ جناب والا
اپنے ملک سے زاید دو ماہ جدا رہنا نہین پسند فرماتے ۔ اور نیز یہ کہ بمبئی۔ کلکتہ سے زیادہ
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
