Machine transcription
۲۹
خوش نما خوبصورت شہر ہے اسلئے بمبئی کو کلکتہ پر ترجیح دیگئی تھی۔ اب چونکہ جناب کلکتہ ہی
دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہماری تو یہ عین آرزو ہے کہ آگرہ کے بعد دوبارہ شرف ملاقات میسر ہو یہ
تو ازیاد محبت کی خاص نشانی ہے۔
غرضکہ امیر صاحب نے ابتدایے دورہ حکومت لارڈ منٹو مین بخوشی خاطر عزم ہندوستان
فرمایا۔ تعلیم یافتہ قوم کے دلوں پر اپنے محبت وتہذیب واخلاق کا نقش بٹھایا۔
اورخاطر و مدارات و مهمان نوازی سے محظوظ ہوکر برٹش میزبانان کی صداقت والفت کا
گہرا نقش اپنے دلپر لے گئے جسکا پتہ وقت روانگی ہر چٹھی کے ہرکلمہ سے پایا جاتا تھا
آخر میں صاف لفظون مین اونہون نے اعتراف فرمایا کہ جس خلوص محبت و عنایت سے
میری جہانداری کی گئی اگر مین ہندوستان نہ آتا تو مجکو اس کا وہم وگمان بھی نہوتا۔ اس موقع
پر ہم اپنے نیک نیت حلیم مزاج مدر وایسراے کو مبارکباد دئیے بغیر باز نہین رہ سکتے
انکے ساتھ سر ہنری میکموہن چیف کمشنر و مسٹر ڈابس ڈپٹی فارن سیکرٹری خاص طور پر مبارکباد
کے مستحق ہیں جہنوں نے اپنے حسن خدمات سے ایسے معزز جہمان کے دل کو اسدرحہ
خوش کیا کہ وہ بیچین ہوکر اظہار محبت پر مجبور ہوا۔
مسٹر مورے نے لارڈ کرزن کی حکمت عملیون پر اعتراض کیا۔ افغانستان کے
ساتھ جو رویہ لارڈ موصوف نے جایز رکھا۔ اوسکو مسٹر مورے نے بہت نامناسب ثابت
کیا۔ اور دکھا دیا کہ جو کچھہ بیچھینی ہندوستان مین ہے یہ سب سابق وایسراے کی عنایت
سے ہے۔
وزیر ہند نے فرمایا کہ امیر صاحب کی تشریف آوری پر نہ صرف ہمارے قلمر ومین نہایت
دلچسپی ظاہر کی گئی بلکہ تمام ایشیامین اسکا چرچا تھا۔ ہوم گورنمنٹ نے نواب گورنر جنرل
ان کونسل ہند کو پہلے سے ہدایت کر دی تھی کہ امیر صاحب کے ساتھ کسی پولیٹیکل معاملہ
پر گفتگونا کیجاوے اسکا یہ نتیجہ نکلا کہ ہمارے تعلقات امیر صاحب کے ساتھ نہایت
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
