Machine transcription
٣۶
رکھتے ہیں۔ انہیں میرے طرز عمل انتظام سلطنت سے بخوبی معلوم ہوگیا ہو گا کہ میرے
بعد میر اوارث تخت کون ہو گا۔ بھروسہ رکھتے ہیں کہ میں اپنے بیٹوں کو پایے تخت کابل میں
رکھتا ہوں وہ سب میرے بڑے بیٹے حبیب اللہ خان کے زیر فرمان ہیں میں نے
بتدریج اوسکے اختیارات کو وسعت دی ہے اب حالت یہ ہے کہ میں خود در بار نہیں کرتا
کل کام اوسکے سپرد کر دیا ہے۔ میں نے اپنے دوسرے بیٹے نصر اللہ خان کو جو حبیب اللہ خان
کا حقیقی بھائی ہے صیغہ مالگذاری و محاسبی کا افسر اعلیٰ مقرر کیا ہے وہ ہر معاملہ
میں اپنے بھائی کی ہدایت پر چلتا ہے میرے دوسرے بیٹے امین اللہ خان ۔ محمد عمر جان
غلام علیخان - اسداللہ خان بھی رفتہ رفتہ مختلف سرکاری کاموں پر مقرر کئے جائینگے
اور اپنے بھائی حبیب اللہ خان کے ماتحت رہینگے۔ میرا بڑا بیٹا صرف خاص اور ضروری
معاملاتمیں میراحکم لیتا ہے ورنہ سارے ملک کا انتظام خودہی کرتا ہے۔ امیر مرحوم دوست و
دشمن کو خوب پہچانتے تھے اونہوں نے شورہ پشتون سے اپنی زندگی میں ملک کو پاک کردیا
تھا اور با اثر اشخاص وقبائل کو مطیع و منقاد بنالیا تھا اسیکا نتیجہ ہے کہ ایک امیر کے بعد دوسرا
فرمان روا بغیر کسی جھگڑے و فساد کے تخت نشین ہوا اور اب تک اندرونی یا بیرونی کسی
فساد کا گمان نہیں ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ امیر مرحوم کا جانشین - روشن خیال - بیدار مغز
زمانہ شناس ۔ ملکی ترقی کا ساعی۔ برٹش گورنمنٹ کے ساتھ تعلقات واتحاد بڑھانے میں اپنے
پدر عالی قدر سے بھی ایک قدم آگے ہے امیر مرحوم کی وفات کی تعزیت اور ہر مجسٹی امیر حال
کے تخت نشینی کی تہنیت کے لئے گورنمنٹ آف انڈیا کا ایک کمیشن افغانستان گیا وہان
اوسکا دوستانہ استقبال کیا گیا بعدۂ ڈین مشن کی مدارات و مہمانی کابل میں اوسی معزز طریقہ
سے کی گئی جو ایک فرمان روا کے لئے ایسے باوقار مشن کے مناسب حال تھی۔ وہان
جب مشن مہمان تھا اوسی زمانہ میں شاہزادہ سردار عنایت اللہ خان کو ہندوستان بیچکر
دوستی و اتحاد کا اظہار فرمایا۔ اور آخر میں خود بدولت نے بذات خاص سلطنت ہند کا مہمان
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
