Machine transcription
جب امیر عبدالرحمن کا سکہ ملک پر خاطر خواہ بیٹھ گیا وہ اصلاح ملک پر متوجہ ہوئے برٹش گورنمنٹ
نے جو روپیہ اونیس تیس لاکھ افغانستان سے وصول کر لیا تھا وہ واپس دیدیا اور اٹھارہ لاکھ
روپیہ سالانہ اور مقرر کردیا۔
افغانستان کی جدید تاریخ اگرچہ احمد شاہ ابدالی سے شروع ہوتی ہے لیکن اصلی
اور باقاعدہ حکومت کی بنا سچے اصول پر امیر عبدالرحمن خان نے ڈالی۔ ایسے غیر اصول
قوم کی اصلاح اسی زبردست مدبر کا کام تھا۔ خونخوار۔ خونریز۔ سرکش۔ لالچی۔ مکار قوم کو راہ پر لانا
اونکس سرکشی کو مضبوط ہاتھ سے توڑنا۔ گردن کش سرداران کو مطیع کرنا۔ ملکی بدعنوانی کو مٹانا
باہمی نا اتفاقی کو ہٹانا۔ اتفاق بڑا نا آسان نہ تھا الفنسٹن صاحب نے جب افغانوں کے
قومی خصائص کے متعلق سوال کیا تو ایک افغان نے بہت سچا یہ جواب دیا ”ہمیں لڑائی
جھگڑے منظور۔ ہمیں خوف و دہشت منظور۔ ہمیں خونریزی و کشت و خون منظور۔ مگر ہمیں
کسی فرمان روا کی اطاعت منظور نہیں ۔ ایسے لوگوں متشتتہ و نا اتفاقی پر تلے ہوئے
فرقوں اور قبائل کے باہمی اختلاف و عداوت و جنگجوئی کو مٹا کر ایک قوم بنانا صرف ضیاء الملتہ
والدین کا کام تھا۔ وہی لوگ جو لڑائی جھگڑے کے عاشق۔ مارنے مرجانے پر شیدا۔ نا اتفاقی پر
کمر بستہ۔ اور ہر قسم کے جرم کرنے پر تیار تھے آج فرمان بردار۔ قانون کے پابند اور قومی جمعیت
کے خیال و شایستگی کے لحاظ سے ہی بہتر حالت میں ہیں قومی و ملکی ضرورتوں کو سمجھتے ہیں
اپنے امیر کو دینی و دنیوی پیشوا و مذہبی حکمران تسلیم کیا ضیاء الملتہ والدین خطاب دیا۔ فوج
باقاعدہ۔ مہذب و آراستہ۔ تنخواہ دار مسلح اور اخلاقی حالت میں تعلیم یافتہ قوموں کے
پہلو بہ پہلو ہے ملک میں امن۔ جرایم میں کمی۔ خفیہ پولیس۔ اور انتظام بھی ہر طرح
اطمینان دہ ہے۔ تعلیم و تعلم کے ساتھ امتحانی قواعد مقرر ہیں۔ تجارت کو ترقی دی۔ رعایا
کی بہبودی کا خیال رکھا۔ خود غرضی و رشوت ستانی کو بند کیا۔ اور سب سے بڑی بات
یہ ہے کہ گورنمنٹ آف انڈیا کے ساتھ دوستانہ تعلق بھی قایم رکھے اور اپنی آزادی کو
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
