Machine transcription
گیا ہوا تھا۔ جسمین آپ نے قندہار کی علیحدگی کی صورت مین امارت کابل قبول کرنے سے
انکار اور بقوت اوسکو اپنے تابع فرمان رکھنے کی امید ظاہر کر کے دریافت کیا تھا کہ انگلستان
آیندہ جیسے تعلقات افغانستان سے رکھنا چاہتا ہے وضاحت سے لکھے جائین
تاکہ میں اپنی قوم سے اسکی قبولیت وعدم قبولیت کا جواب سکون گرفین صاحب نے ۲۹ جولائی
کے بعد اس کا جواب وایسرے کی طرف سے حسب ذیل بھیجا :۔
گریٹ برٹن آپکو امیر افغانستان تسلیم کرتا ہے گورنمنٹ کو اپکے اندرونی معاملات مین دخل
دینے سے کوئی سروکار ہوگا اور نہ آپکی سلطنت میں کسی جگہ ریزیڈنٹ رکھا جائے گا۔ ہان
دوستانہ خط و کتابت کی غرض سے ایک مسلمان برٹش ایجنٹ کابل مین رکھا جانا مناسب
ہوگا ۔ سیاسی تعلقات کے متعلق بجواب اتنی توضیح کافی ہے کہ جب تک اپنی مصلحتون کی
بنا پر گورنمنٹ کسی غیر سلطنت کی مداخلت کو افغانستان مین نا پسند کرتی ہے ۔ روس ایران
افغانستان مین کسی قسم کی دست اندازی نکرین ۔ افغانستان کو ضرورت ہی نہین ہے
کہ برطانیہ اعظم کے سوا اور کسی سلطنت سے سیاسی تعلقات قایم کرے ۔ احیاناً اگر کوئی
غیر سلطنت افغانستان کی طرف بڑھیگی اور کابل پر حملہ ہوتا ہوا نظر آئیگا تو گورنمنٹ مناسب امداد
اوسکی مدافعت کے لئے ضرور آپکو دیگی بشر طیکہ آپ بھی بیرونی تعلقات کے متعلق گورنمنٹ
کے مشورون کا لحاظ رکھین۔
وایسرے کی یہ تحریر جوگویا گورنمنٹ کا از خود مجوزہ معاہدہ تھا امیر عبد الرحمن خان کو
پہونچی کہ سر لیپل گرفین معہ فوج قندہار کو روانہ ہوئے ۔ سردار ایوب خان کو شکست دیتے
ہوئے پشاور کی طرف متوجہ ہوئے۔ یون افغانستان کی اس جنگ کا بھی خاتمہ ہوا ۔
آخر ۶۱۸۸۱عین قندہار اور اوسکے بعد ہرات قبضہ مین آیا۔ اسطرح کل افغانستان آپکے
تابع فرمان ہو گیا ۔ سردار ایوب خان ایران چلے گئے وہان مدت تک رہے۔ شاہ ناصرالدین
نے ایک شاہزادی سے انکا نکاح کر دیا ۔ اور بالاخروہ انگریزی وظیفہ خوار ہوکر ہندوستان آگئے
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
