Machine transcription
۲۴۳
ہندوستان کی سیاحت فرمائی۔ آزادانہ پھر کر ہر چیز کو نظر غائر سے دیکہیا
اُن کے اطوار ۔ اقوال نے ثابت کر دیا کہ وہ ایک باخبر بیدار مغز حکمران
ہوشمند انسان اور راست کردار مسلمان ہیں۔ اُن کا قول ہے کہ میں سپاہی
ملا۔ اور بادشاہ ہوں۔ اور یہ بالکل سچ ہے۔ اگر افغانستان کا حکمران
ان ہر سہ صفات سے متصف نہیں تو کچھ بادشاہ نہیں۔
وہ یہان ملک گیری اور فاتح کی حیثیت سے نہیں آئے تھے
مگر اُنہوں نے فتح پائی۔ بلا امتیاز مذہب وملت وبلا استثناء قومیت
وذات سب کو اپنے حُسنِ اخلاق سے مُسخر کیا۔ لوگوں کے دلوں پر اپنی محبت
کا سکہ بٹھایا۔
زور حکومت انسان کے جسمون کو مسخر کرتا ہے لیکن یہ شرف صرف
اخلاق وبے تعصبی کو حاصل ہے جو انسان کے دلوں پر قبضہ کرتا ہے جسکو
نہ کوئی قوت ہٹا سکتی ہے۔ نہ مدت بُھلا سکتی ہے۔ نہ جبر و وری کا اثر پڑسکتا
ہے۔ آپ کی باخبری و روشن خیالی سے امید ہے کہ جو بصیرت یہان
کی سیاحت سے حاصل کی ہے اوسکو اپنی بہبودی ملک کے کام میں
لائینگے۔ اپنے مفید خیالات کا اظہار عملاً فرمائینگے۔
ہندوستان کو زرخیز ملک ۔ رعایا کو بظاہر خوشحال۔ لوگوں کی جان
مال کو محفوظ۔ ہر جگہ امن وامان پایا۔ اس اثر سے آپ متاثر ہوئے ہونگے
اور اپنی سلطنت میں اس کی طرف توجہ مبذول فرمائینگے۔ ناواقف و
نادانون کا یہ گمان تھا کہ ہز مجسٹی کو فن سپہگری کے متعلق اعلیٰ پایہ کی
شاید واقفیت نہ ہو۔ مگر انگریزی فوج کی حالت دیکہ کر جو دلچسپی ظاہر
کی اُس سے اس خیال کی تردید ہوگئی۔ جو خیال انگریزی سپاہ دیکہکر
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
