Machine transcription
۲۴۷
بکثرت موجود ہون اور وہان سے ایسا انتخاب، پس جسقدر اچھا یا برا وقوع مین آیا
اُسپر استعجاب کا موقع نہین۔ اسلیے کہ ایسے عظیم الشان موقعون پر جہان اسقدر
عالی اخلاق و تربیت کی ضرورت ہو اور صرف خطیر ہاتون مین رہے۔ ضرور ہے
کہ بے جانچے ہوئے اخلاق قابلیت و مقاصد کے ممبران کے ہاتھ مین وہ نتائج
نہ پیدا کرے جو مہمان یا میزبان کے دل و دماغ مین ہون۔
ان ہندوستانی اصحاب کی حالت وہ تھی جسکو حالت محتملہ کہتے ہین۔ یہہ نہ
اُس مرتبہ پر تھے جن کے اخلاق و قابلیت کی جانچ ہوچکی ہو۔ نہ ان مسلم الثبوت
طبقہ مین سے ہین جن کو شروع سے تربیت کا موقع ملتا ہے۔ اور اکتساب
دنیا کو خادم آبرو سمجھتے ہین۔ ایسے اشخاص کیسی خدمت کو خواہ اچھی طرح ادا
کرین یا برعکس مگر نگاہ خلایق مین ہمیشہ استنباہ سے دیکھے جاتے ہین اور ان
کے افعال اگر حد معقول تک محمود نہون تو ہمیشہ طرح طرح کی بدگمانیون اور غلط نتیجہون
کا موقع ملتا ہے ان کی بدنامی اُس قوم اور ملک سے منسوب کیجاسکتی ہے جس
ملک و قوم مین وہ ہون۔ ہم کسی شہادت تفصیلی کی بنا پر کوئی حتمی رائے نہین
قائم کرسکتے۔ کہ ان کی خدمات خاطر خواہ تہین یا نہین۔
مگر قیاس دانخواہ داعی ہے کہ اغلباً خالی از اعتراض نہ ہون۔ خاصکر اُن معاملات
مین جن مین منافع ذاتی کا احتمال ہے اگر کوئی صورت اس قسم کی پیش آئی یا آئیگی
وہ بڑی افسوسناک بات ہے۔
اولاً اسلیئے کہ اس مجلس کے سرگروہ ایک معزز ملازم سرکار فقیر سید افتخار الدین
تھے جنکا فرض منصبی تھا کہ خود احتیاط سے کام کرتے اور ایسے لوگون کی قابلیت
کا اندازہ کرنے کے بعد سب حالات اپنے یورپین افسران کی اطلاع مین لاتے
اور صحیح خبرین پہونچاتے اور ذاتی قرابتون و دوستانہ تعلقون کی پرواہ نہ کرکے
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
