Machine transcription
۱۶
مقرر کیا۔ ۱۷۱۶ء میں ہرات بھی ایک آزاد سلطنت بن گیا۔ ۱۷۲۲ء میں غلزئیوں نے
آصفہان پر حملہ کر کے اوسے اپنا مطیع کیا۔ اور تھوڑی مدت تک ایران پر بھی قابض رہے
نادر نے ۳۸-۱۷۳۷ء میں افغانستان کو فتح کر لیا ۱۷۴۷ء تک اسپر قابض رہا۔
تاریخ جدید
احمد شاہ کے وقت سے افغانستان دنیا کی سلطنتوں میں شمار ہونے لگا۔
یہ شخص افغان سپاہی ابدالی قبیلہ سے تھا۔ ابدالی قبیلہ ہرات میں آباد تھا۔ اسمیں صدّو
بارک دو سگے بھائی تھے۔ جنکی اولاد صدوزئی ۔ اور بارکزئی کہلاتی ہے۔ احمد شاہ ابدالی
کا تعلق صدوزئی خاندان سے تھا۔ یہ نادر کا معتمد خاص تھا۔ نادر کے قتل کے بعد سرداروں
نے اسے اپنا فرمان روا منتخب کیا چونکہ وہ خود اور اوسکا قبیلہ افغانوں میں با رسوخ تھا
اسلئے اوسے بادشاہی میں کوئی دقت پیش نہ آئی اوس نے نادر کے مشرقی حصہ سلطنت
پر قبضہ و اقتدار جما لیا وہ چھبیس سال تک حکمران رہا۔ اس زمانہ میں ہر چہار جانب جنگی مہمیں
لیکر گیا۔ مغرب میں بحیرہ کسپین تک اور مشرق میں ہندوستان میں داخل ہوا۔ مرہٹوں کی
قوت فنا کرنے والا یہی بادشاہ تھا جس نے برٹش گورنمنٹ کے لئے میدان صاف کر دیا
ابدالیوں کی فاتحانہ یورشین گو اصل میں انگریزوں کے لئے فائدہ مند اور مرہٹوں کی کمزوری
کل ملک پر قابض ہو جانے کا آسان ذریعہ ہوئی۔ لیکن خود افغانستان بہی فائدہ سے
محروم نہ رہا۔ آج افغانستان کو جو عظمت حاصل ہے وہ ابدالی فاتحوں کی پامردی کا نتیجہ ہے
۱۷۷۳ء میں ایک مرض کہنہ احمد شاہ کی موت کا سبب ہوا۔ اوسکی وفات کے بعد اوسکے
دو بیٹوں ۔ سلیمان شاہ و تیمور شاہ میں جھگڑا ہوا۔ بارک زئی خاندان زیادہ تر سلیمان شاہ کا
طرفدار تھا لیکن آخر کار تیمور شاہ تخت نشین ہوا۔ جو لوگ آخر وقت تک سلیمان شاہ کے
ساتھ رہے تیمور نے اون سے انتقام لیا ۔ لیکن جو اثنائے جنگ میں تیمور کے طرف دار
ہو گئے تھے اونکو منصب و خلعت عطا کئے۔ پائندہ خان بارک زئی کو بہی اسی صلہ میں
منصب و خلعت دیا گیا تیمور نے بڑے زور کی سلطنت کی اس نے تمام افغانستان پنجاب
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
