Machine transcription
۲۳۹
[ILL]
یہ سردار امیر دوست محمد خان کے بھتیجے سردار سلطان محمد خان کے خلف الرشید
اعتماد الدولہ سردار عبد القدوس خان موجودہ پریم بینہ کابل کے بھائی ہیں۔
اول مرتبہ ۶۱۸۸۵ء میں ہند وستان آئے۔ چودہ برس تک رہے۔ ۱۸۹۹ء میں کابل واپس
گئے۔ پانچ برس تک ضیاءالملت والدین امیرمغفورکی حضوری کا شرف حاصل رہا۔
اگست ۱۹۰۴ء مین امیر مرحوم و مغفور نے عہدۂ سفارت ہند دستان پر ممتاز کیا
تقرری کے وقت فرمایا کہ ہنستے سفارت ہند کے لیے اُس سردار کو منتخب کیا ہے جو
اس ذمہ دارانہ عہدۂ جلیلہ کے لیے ہر طرح موزون ہے۔
کارنامے امیر مرحوم ممدوح نے جن مصلحتون کو مد نظر رکھ کر خدمت سفارت تفویض
فرمائی تھی اُس کے وہ اہل ثابت ہوئے۔
سرداران وقبائل فراری ومنحرف کو مطیع ومنقاد بنا کر تخت کابل کو اطینان وتقویت
دنیا ان کی خدمات مین وقیع خدمت ہے۔ سردار یحیٰ خان اور ان کے صاحبزادگان
سردار آصف خان و سردار یوسف خان۔ اور سردار محمد عظیم خان ولد امیر دوست محمد خان
وسردار محمد امان خان نواسۂ امیر دوست محمد خان۔ وسردار احمد خان ولد سردار
سلطان محمد خان۔ وشاہ غاصی محمد اکبر شان ولد شاہ غاسی عطاء اللہ خان
ولوی ناب سردار خوشدل خان۔ وسید محمود بادشاہ مع جمعیت کلان۔ و میر بچہ خان
کوہستانی جو ۱۸۸۰ء مین لارڈ رابرٹس سے بر سر پیکار و جہانداد خان احمد زئی
جو بعد وفات ضیاء الملت والدین مغفور مرتکب بغاوت ہوئے ان کی جمعیت
سات ہزار افغانوں کی تھی۔ یہ سب رضامند وفرمانبردار بنا کر کابل روانہ کیے گئے
وقت وفات امیر عبد الرحمان خان مرحوم پشاور مین بکثرت با اثر فراریان
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
