Machine transcription
۲۴۰
کابل مقیم تھے اُن کی نگرانی خاص طور سے کرائی۔
ان خدمات کے صلہ مین نشان (تمغہ) صداقت اعلیٰحضرت سراج الملت والدین
نے مرحمت فرمایا۔
حمایت الاسلام لاہور مین چھہ ہزار سالانہ کا عطیہ جسکو اس سیاحت مین ہز مجسٹی
نے المضعف فرما دیا۔ شہزادہ عنایت اللہ خان کا ہندوستان مین تشریف لانا۔
ہندوستان کی سیاحت شاہ افغانستان اور علی گڑھ میں مہمان بننا۔ ایک رقم کثیر
دوامی و یکمشت عطا فرمانا۔ یہہ انہین کے زمانۂ سفارت کی باوقار یادگارین ہیں۔
ان یادگارون کا ان کو محرک یا مویّد اگر نہ کہا جاوے تو انصاف کا خون کرنا اور دفعاً
سے بے خبری کی دلیل ہے۔
وہ مہمان نواز۔ خوش اخلاق ۔ با مروّت ۔ یار و اغیار سے خندہ جبینی و مدارات
سے پیش آنے والے شخص ہیں۔ اکتوبر ۱۹۰۶ء مین جو ڈپوٹیشن معززین اہل اسلام
کا وایسرائے کے حضور مین بمقام شملہ پیش ہوا تھا اُسکے تمام ممبران کی دعوت
جس فراخ حوصلگی سے کی گئی وہ اُن کی فیاضانہ مہمان نوازی کا بیّن ثبوت ہے۔
ان سے پہلے جو جو بزرگوار منصب سفارت ہندوستان مین رہے
اُن مین کسی کو یہ دعویٰ نہیں ہو سکتا کہ ہند و افغانستان کی سلطنتون مین
ایسا عمدہ اتحاد قایم ہوا جیسا کہ اب ہے۔
جنرل میر احمد خان جو سب سے پہلے سفیر افغانستان کی حیثیت سے یہان آئے
اُنہون نے شملہ مین قضا کی اور سرہند مین دفن ہوئے۔ ضیاء الملۃ والدین
ان کی بیحد عزت کرتے تھے اور اُن مین بہت سی خوبیان تھین۔ مگر جو صحیح دماغ
قدرت سے کرنل سردار محمد اسمعیل خان کو ملا ہے۔ اسپر خود بہی جسقدر شکر و ناز کرین
بجا ہے جس خوش اسلوبی سے اتحاد ہر دو سلطنتون کے یہہ باعث ہوئے وہ
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
