Machine transcription
۲۳۰
اقوام کی تمدنی ترقی اور نمود و شان و شوکت وان کے تنزل و بربادی کے
اسباب میں بیان کی گئی ہیں۔
احکام الہی سے صاف واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے کی ممانعت
نہیں کی۔ رزق حلال وطیب کی اجازت ہے۔ مگر خواہشات نفسانی کہ پیچھے جانیکی ممانعت ہے
ہماری خواہشیں تو یہی ہیں کہ خوشجمال عورتوں کا ہجوم۔ اولاد۔ روپیہ پیسہ۔ مویشی
صرف ظاہری نمود کے لیے ہوں اور زراعت ہی ہو۔ یہی تمدن کے اسباب ہیں
مسلمان جب حد اعتدال سے گزر کر عیش و عشرت کیطرف مائل۔ اور ظاہری
آرایش و نمائش بے سود نمود کی جانب راغب ہوگئے اور اس سادہ تمدن
کو بھول گئے جو انہیں سکھایا گیا تھا۔ اور جسکی وجہ سے انہیں غلبہ حاصل
ہوا تھا تو ان کو ذلت و مسکنت میں مبتلا ہونا ہی ضرور تھا اور وہی انجام ہوا
جو مسرفین کا ہوا کرتا ہے۔
حالانکہ ان سے پیشتر مُسرف و جادۂ اعتدال سے تجاوز کرنے والی قوموں کو
اللہ تعالیٰ نے حد سے بڑھجانے کے باعث فنا کر دیا تھا۔ با وجود اسکے اہل اللہ
ان کو قوموں کی تباہی کا حال سُنا سُنا کر ڈراتے اور سمجھاتے رہے کہ اصراف سے
باز آؤ۔ دیکھو رومیوں کا کیا حال ہوا۔ ایرانیوں پر کیا تباہی آئی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر مسلط کر کے خلیفہ بنایا تاکہ تم دنیا کو عدل و انصاف
سے بہر دو اور گذشتہ قوموں کی تباہی سے عبرت پکڑو۔
الہامی کتاب میں ہدایت ہے کہ سونے چاندی کا بطور زیورات
کے استعمال ترک کرو۔ بے فائدہ روپیہ جمع نہ کرو۔ اگر روپیہ جمع ہو تو قومی کام
میں لگاؤ۔ ایسا لباس جو ظاہری آرائش ہے ناپسند کرو۔ اسراف سے باز
آؤ۔ اگر ایثار نہیں کر سکتے تو خیرات میں حصہ لیا جاوے۔ اور یہ بھی نہ ہو سکے
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
