Machine transcription
۲۲۹
الفاظ مین جو اعتدال سے تجاوز کرنا ہے۔
کلام پاک مین جہان اعتدال کی خوبی بیان کیگئی ہے ساتہہ ہی تجاوز کرنے اور برائیون
کا اظہار ہے۔
یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِى الْاَرْضِ حَلَالًا طَیِّبًا ۖ وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ ۖ
اِنَّہٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ ہ اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَالْفَحْشَآءِ وَاَنْ تَقُوْلُوْا
عَلَی اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ہ
لوگو زمین مین جو چیز حلال طیب ہے اُس مین سے (جو چاہو بے تامل) کہاؤ۔ اور
شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ وہ تو تمہارا کہلا دشمن ہے۔ وہ تمہین بدی اور بیحیائی
ہی (کے کام کرنے) کو کہیگا۔ اور یہہ (چاہیگا) کہ (اپنی طرف سے) بے سمجھے بوجھے خدا
پر بہتان باندہو۔
اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِى الْاَبْصَارِ ه زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ
النِّسَآءِ وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَیْلِ
الْمُسَوَّمَةِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۭ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ۚ وَاللّٰهُ عِنْدَہٗ
حُسْنُ الْمَاٰبِ ہ قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ ۭ
اس مین شک نہین جو لوگ (دل کے) سوجہہ رکہتے ہین اون کے لیے اس (واقعہ)
مین عبرت ہے۔ لوگون کو مرغوب چیزون یعنی عورتون اور سونے چاندی کے
بڑے بڑے ڈہیرون اور عمدہ عمدہ گہوڑون ومویشیون وکہیتی کے ساتہہ ڈہنگی بہلی
معلوم ہوتی ہے حالانکہ یہہ دنیا کی زندگی کے (چند روزہ) فائدے ہین۔ اور اچها
ٹہکانه تو اُسی (اللہ) کے ہان ہے۔ (اے پیغمبر ان لوگون سے) کہو کہ مین تمکو
اِن سے بہتر چیز بتاؤں۔
قرآن مجید مین مذکورۂ بالا آیات کے علاوہ بہت سی آیتین گذشتہ زمانہ کے
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
