Machine transcription
۱۹۵
لیکن معلوم ہوتا ہے کہ گیگ لیٹرو نے عورتون کو مصری طریق مین داخل کیا تھا
جب اٹھارہویں صدی کے شروع مین فرانس مین کئی فرقے پیدا ہوگئے ۔ جو
لے گیگ لیٹرو جوزف بوبینٹ حرمین کا پہلا جانشین تھا جس نے لوئی پانزدہم کے دربار مین چارلس پنجم فرانس اول
اور مسیح کے ہمعصر ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا اور یہ کہ اسکے پاس اکسیر حیات اور بہت سے مخفی اسرار ہین اپنے
اوستاد سے زیادہ عالی حوصلے اور وسیع منصوبے رکھتا تھا ۔ فرانس و باقی یورپ مین فرمیسن کے نہایت
کارگذار نایبون مین سے ایک شخص تھا۔
یہ بمقام پیار سو مین ۱۷۴۳ء مین پیدا ہوا کٹی سرکی دو خانقاہون مین تعلیم پائی ۔ جہان اُسے کسیقدر علم کیمیا سازی
آگیا تھا۔ وہ ایک کتاب موسومہ رائٹ آف راپچیش میسنری کا مصنف تھا۔ روم مین بحالت اسیری
۱۷۹۵ء مین مرگیا ۔ مصری طریق کو گیگ لیٹرو نے جارج کانٹن کی ایک قلمی کتاب پاکر جس مین
فرمیسن مذہب کی اصلاح کی ایک عجیب حکمت کیمیاوی اور خیالی معنون مین پیش کی گئی تھی اوسی
کے اوپر اپنے میسن کی بنیاد قایم کردی ۔ اور انسانی سریع الاعتقادی سے مستفید ہوکر دولتمند ہو گیا ۔ دوسری
خفیہ انجمنون کی کارروائی مین امداد دیتارہا ۔ اوسنے اپنے شاگردون کو سمجھایا کہ مصری مین کا منشا یہ ہے
کہ جسمانی و اخلاقی اصلاح کمال پر پہونچادی جاوین ۔ اور بیان کیا کہ اول الذکر مین عمل ادویہ پارس پتھر کی وجہ سے
کبھی خطا نہین ہوتی جس سے انسان کے لیے جوانی کی طاقت اور حیات دائمی کا کلی یقین ہے ۔ اور
دوسری بات اسم اعظم کے دریافت ہونے سے حاصل ہو سکتی ہے جس سے انسان اپنی ابتدائی
معصومیت پر پھر آسکتا ہے ۔ گیاگ لیٹرو نے یہ غلط بیان کیا تھا کہ اسی طریق کو اول اول انیوک (اخنوخ) نے
قائم کیا تھا اور الیاس نے ترمیم کی ۔ مرد و عورت دونون لاجون مین داخل کرلیے جاتے تھے دونون کیونجہ عبد القادرے
تھوڑے تفاوت ہو مقرر تھے ۔ عورت کو داخل کرنے کے وقت منجملہ اور تکلفات کہ یہ رسم بھی تھی کہ نو مریدہ کے چہرے پر ہیم
ملکے پہونگاری جاتی تھی کہ جو سچ میرے پاس ہو وہ تیرے دل مین جم جائو اور ترقی کرو تیرے دلمین نیک ارادے راسخ ہو جاوین
پنچر سمال ادہمہنون کا ایمان تیرہ اندرستقل ہو جائو اسم اعظم کی نسبت گیگ لیٹرو تعلیم دی کہ وہ بہتر لوگونکو سات ابتدائی مرتبون کیتا
چالیس روز تک آمد و رفت رکھنے کے بعد بتلایا جاوے گا اور یہ کہ اسم اعظم جاننے والے کو ۵۵۵۰ سال تک شادابی
۲ تجدید حاصل رہے گی ۔ اور پھر اس مدت کے بعد وہ خواب شیرین کے ساتھ بہشت مین پہنچ جاو یگا اس اسم اعظم کو
لندن پیرس سینٹ پیٹرسبرگ کو ہتر آزاد ہیونین ایسی کامیابی ہوئی جیسے کسی زمانہ مین پارس پتھر کو تھی ۔ اور بہت سا
روپیہ جوان بنانے والی ادویہ کی چند رتیون کے واسطے دیا جاتا تھا۔
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
