Machine transcription
۱۹۳
فریڈرک ولیم سوم اور فری میسن اس نام کے شاہ پرشیا کی یکایک بازگشت ۱۷۹۲ء میں جلسہ
کرنے کے بعد کبھی قابل اطمینان بیان نہیں کی گئی۔
ڈاکٹر ای۔ ای۔ ایگرٹ اپنی کتاب موسومہ فرقہ میسن کے قرار داد جرم شہادت کا رسالہ
میں ایم۔ ڈی باشندہ پیرس کی چٹھی کے حوالہ سے جو پیران وان۔ ایس مقام وائٹ
کے نام ہے ذیل کی عبارت لکھتا ہے اور کہتا ہے کہ معتبر ہے۔
شاہ پرشیا جاری حدود سے عبور کر چکا تھا۔ میرے یقین میں وہ ورڈن یا تھیان
واگل پر تھا۔ شام کے وقت ایک محرم نوکر نے اوس سے ایک میسن اشارہ کیا
اور اُس کو ایک زمین دوز گنبد میں لے گیا۔ جہان اوس نے شاہ کو تنہا چھوڑ دیا۔
چراغوں کی روشنی سے جو کمرہ منور تھا بادشاہ نے اپنے مورث فریڈرک اعظم کو اپنے
پاس آتے دیکھا۔ اُسکی آواز۔ لباس۔ چال اور حلیہ میں کوئی غلطی نہیں ہو سکتی تھی
اُس روح نے بادشاہ کو فرانس کے برخلاف اسٹریا سے اتحاد کر لینے پر ملامت
کی اور حکم دیا کہ وہ یہان سے فوراً چلا جاوے۔ بادشاہ نے ایسا ہی کیا جس سے
اُس کے معاونین کو بڑی نفرت ہوئی۔ لیکن اوس نے اپنی علیحدگی کے وجوہات
نہیں بتلائے۔ چند سال بعد مشہور نقال فلمیوری نے جسنے اپنے دو صفحوں کی
نقل کی بدولت اسقدر شہرت ٹھیٹر فرینکیس میں حاصل کی تھی جس حصہ میں اُسنے
فریڈرک اعظم کی ہو بہو صورت بنا کر دکھلا دی تھی اور یہہ بھی اقرار کیا تھا کہ میں ہی
بھوت بنا تھا جو وقت ولیم سوم نے صورت سے دھوکہ کھایا۔ یہہ بات جنرل دموریز
نے سوجھائی تھی اور یہہ دموریز فریمیسن تھا۔
سلطنت عثمانیہ میں فریمیسن یہہ فرقہ ترکی سلطنت عثمانیہ میں پھیل گیا۔ مگر وہان پر جیسا کہ
ظاہر ہوتا ہے اُس نے عرصہ دراز تک عذاب یافتہ زندگی گذاری۔
قسطنطنیہ۔ سمرنا۔ حلب میں لاجین قایم کی گئیں۔ یہہ بات فریمیسن کی جانبداری
۲۵
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
