Machine transcription
۱۴۹
نظر تحقیق سے دیکھا جائے تو اس حدیث کو نہ طعام سے علاقہ ہے اور نہ کسی قسم
کے تشبہ سے جو کسی قوم کے ساتہ کیا جائے تعلق ہے۔
اس حکم شرعی کا منشا یہہ ہے کہ حالت جدال و قتال یا اور کسی واقعہ مین جو مسلمان
یا اور قوم کے لوگ مارے جائیں۔ تو ان کی شناخت کہ کون مسلمان ہین کون نہین ہیں
کیونکر کیا وے۔ تاکہ مراتب تجہیز و تکفین موافق اس قوم کے ادا کیا جاوے۔
اسی باب مین یہہ حدیث ہے اور یہ حکم ہے کہ جس قوم کے مشابہ جو ہو اُسی قوم مین
اُس کو شمار کرنا چاہئیے۔ چونکہ اس طرح کی شناخت بقیاس غالب لباس پر منحصر ہے
اسلیے تمام محدثین نے اس حدیث کو کتاب اللباس مین ذکر کیا ہے اور اسی حدیث
کی بناء پر روایات فقیہ کتب فقہ مین مذکور ہین۔ اس خیال کے مؤید اور بہی بعض وجوہ
ہین جو اس معنی کو قوی کرتے ہین بخوف طوالت ان کو قلم انداز کیا گیا۔
اب یہہ قیاس کہ ساتہ بیٹھکر کھانا اور آپس مین اختلاط رکہنا باعث ازدیاد
محبت و تولا ہے اور سوای مسلمان کے کسی مذہب والے سے تولا اور دوستی
شرعاً جائز نہیں۔ لہذا اہل کتاب کے ساتہ بیٹھکر کھانا جو باعث محبت و اخلاص
کا ہوتا ہے مباح نہیں۔ آیا قرآنی جن مین تولا کی نہی آئی جواب انکی صراحت کیجاتی ہئ
آیت اوّل یاایّھا الّذین امنوا لا تتّخذوا الیہود والنصاریٰ اولیاء
ای ایمان والو نہ بناؤ تم یہود اور نصاری کو اپنا دوست |پاره ٦ سورة المائده
آیت دوم یا ایّھا الّذین امنوا لا تتّخذوا الکافرین اولیاء من دون المؤمنین
ای ایمان والو نہ بناؤ کافرونکو دوست سوای مومنون کے|پاره ٥ سورة النساء
آیت سوم لا یتّخذ المؤمنین الکافرون اولیاء من دون المومنین
مسلمانونکو چاہیے کہ مسلمانونکو چھوڑ کر کافرون کو اپنا دوست نہ بنائین|پاره ۳ سورۂ آل عمران
آیت چہارم یا ایّها الّذین امنوا لا تتّخذ وا عدوی |پاره ۲۸ سورۂ الممتحنه
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
