Machine transcription
۱۴۸
میزون پر کھانا کھاتے ہیں۔ ہوٹلوں کے ملازم و خدمتگار۔ باورچی۔ عیسائی یہودی
بیشتر اور مسلمان کم ہیں یعنی خدام مشترک ہیں۔
اب اگر یہہ کہا جاوے کہ آیات و روایات سے طعام اہل کتاب کا مباح
ثابت ہوا مگر مضمون طعامم حل لکم و طعامکم حل لہم سے مواکلت و یکجائی بیٹھکر
کھانا کہاں سے نکلا۔
ابوداؤد میں جو حدیث ابن عباس سے مروی ہے اور جسکے آخر میں وحل
طعام اہل الکتاب ہے اُسکو ابو داؤد نے باب ضیعف میں لکھا ہے جس سے
پایا جاتا ہے کہ بطور ضیافت کے کھانا جائز ہے۔
پس جب ساتہہ بیٹھکر کھانے میں کوئی محظور شرعی نہیں خواہ اُن کا بھیجا ہوا
یا پکایا ہوا ہو خواہ اپنے گھر کھائیں خواہ اُن کے ہاں جاکر خواہ تنہا خواہ اہل کتاب
کے ہمراہ بیٹھکر کھائیں اِسکے ممنوع ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔
۴ بحث تشبہ۔ اس باب میں حدیث من تشبہ بقوم فهو منھم پر استدلال کیا جاتا ہی
کتاب اللباس باب ماجاء فی الاقبیۃ میں ابوداؤد نے یہ حدیث لکھی ہے
تشبہ سے تشبہ تام مراد ہے۔ مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی نے اپنے فتاوی
محررہ جمادی الثانی ۱۲۳۶ھ میں صاف فتوی دیا ہے کہ جو باتیں کفار کے ساتہہ ایسی
مخصوص ہیں کہ کوئی مسلمان اُن کو نہیں کرتا اُن کا کرنا تشبہ میں داخل ہے اور منع ہی
اور ایسی باتیں جو کفار پر مخصوص نہیں گو کفاران کو بہت زیادہ کرتے ہیں اور مسلمان
کم اُن کے کرنے میں کچہہ مضایقہ نہیں ہے۔ اُنہوں نے یہہ بھی لکھا ہے کہ اگر
کوئی بات جو مخصوص کفار کے ساتہہ ہو بنظر آرام و فائدہ کی کجاوے تو بھی کچہہ مضایقہ
نہیں بعد اسکے وہ لکھتے ہیں کہ جو تشبہ کہ منع ہے وہ یہہ ہے کہ اپنے تیئں
اُنہیں میں شمار کرے۔ بلاشبہ اس طرح اپنے تیئں کفار میں گننا منع کیا بلکہ کفر ہی
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
