Machine transcription
۱۴۶
لیکن نجاست اُن کے اعتقاد میں ہے نہ اُن کی ذات مین ۔
پس جسطرح کہ ہم لوگ بلا کسی تردد و تامل کے ہندوؤں کے ہان کا پکا ہوا کھانا
یا حلوائیون کی مٹھائی کھاتے ہیں۔ اوسیطرح اور اُسکی مثل با احتیاطی کے ساتہہ اسکو
بھی روا رکھیئے جسکو انگریز یا مشرک پکاتے ہیں۔
جس شخص کے دل مین ہیت مسائل شرعیہ جن کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
عمل میں لائے یا بالتصریح اُن کے جواز کا حکم دیا بخوبی مستحکم ہے۔ وہ بمقابل ان مسائل کے
عوام کے بُرا بھلا کہنے کی کچھ حقیقت نہیں سمجھتا اور نہ اپنے معتقدین کی نارضامندی
کی پرواہوسکتی ہے اُسکے نزدیک ان تمام شبہات بے وقعت کی بطلان کے لئے
صرف فعل رسول کریم صلعم کافی ہے کہ آپ نے یہودی کے ہان کا پکا ہوا کھانا۔ بغیر
کسی خدشہ کے کھایا۔ اور جب آپ سے نصاری کے ہان کے کھانے کے باب
میں پوچھا تو آپ نے صاف فرمایا ”لاَتَتْخَلَجَنَّ فِيْ صَدْرِكَ“ یعنی تمہارے دل
میں کچھ تردد نہ ہونا چاہیئے۔ اور ایک کافر کو آپ نے اپنے ساتہہ کھانے کی اجازت دی
پس جو کوئی اس اتقا سے زیادہ دعویٰ دار ہو تو سوء ادبی ہے۔
۲ (بحث ظروف) ابوداؤد میں ابو ثعلبہ الخشنی سے روایت ہے۔
سئل رسول الله صلّی الله عليه وسلم قال انّا تجاورُ اهل
الكتاب وهم يطبخون في قدورهم الخنزير ويشربون في انيتهم
الخمر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ـ ان وجدتم غيرها
فكلوا فيها واشربوا وان لم تجدوا غيرها فارحضوها بالماء
كلوا واشربوا۔
پوچھا ابو ثعلب الخشنی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ ہمارا گذر ہوتا ہے
اہل کتاب پر اور وہ پکاتے ہیں اپنی دیگچیون مین سُور اور پیتے ہیں اپنے برتنون مین
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
