Machine transcription
اور چند آپ کے اصحابنے اُسکو کھایا۔ روایت کیا اس حدیث کو ابو داؤد اور دارمی نے۔
حلال چیز کو اگر ایک جگہ بیٹھکر مسلمان اور مشرک یہی چہ جائیکہ اہل کتاب کھاوین ۔ تو
وہ چیز حرام و ناجائز نہین ہو جاتی۔ رسالتمآب صلعم نے کافرونکوبھی اپنی ساتھ بٹھا کر کہلایا ہے۔
فی مطالب المؤمنین روی ان النبی صلى الله عليه وسلم كان
یاكل فاتاه کا فرفقال آكل معك يا محمد فقال نعم الى آخر
ماقال وسياتي ذكره ۔
مطالب المومنین مین روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم طعام تناول فرما رہے تھے
کہ ایک کا فر آیا اور کہا کہ یا محمد کیا مین بھی آپ کے ہمراہ کھاؤن آپ نے فرمایا کہ ہان۔
حلال چیز کو اگر مسلمان اور اہل کتاب یا کوئی کا فرایک رکابی مین کھاوین یا ایک کا
جھوٹا دوسرا کھاوے بشرطیکہ کھانے کے وقت اُن کا ہا تھ یا مونہہ شراب یا اور کسی
حرام چیز مین آلودہ نہ ہوتو یہی اُس چیز کا کھانا جائز ہے کیونکہ ہم مسلمانون کے مذہب
مین یہ مسئلہ مسلم الثبوت ہے کہ سوء الانسان طاهر یعنی انسان کا جھوٹا پاک ہی
غرضکہ اہل کتاب کے ہان کھانا کھانے مین اور اُن کے ساتھ ایک جگہ بیٹھکر
کھانے مین کوئی خطر شرعی نہین فی نفسہ حلال و مباح ہے۔
جس طرح کہ اہل کتاب کا کھانا جائز ہے۔ اسیطرح او نکا ذبیحہ یہی درست ہی۔
جو احکام حلال و حرام کے ہمارے مذہب مین ہین اہل کتاب اُن کے مکلف
نہین ہین۔ بلکہ وہ صرف ایمان لانے کے مکلف ہین۔ اہل کتاب کا ذبیحہ خدائی
تعالٰے نے ہم کو حلال کر دیا ہے۔ اُس مین یہہ شرط قایم کرنی کہ ذبح مین پابندی
احکام اسلام بجالانا چاہیے۔ نا ممکن ہے۔
عیسائی یا یہو دیون کو کیا غرض ہے کہ وہ ایسی پابندی کرین۔ بلکہ جسطرح کہ اُنکے
نزدیک اور اُن کے مذہب مین جانور کی زکوٰۃ درست ہے وہی اُن کا ذبیحہ ہے اور
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
