Machine transcription
چاہیئے کہ جس طرح مسلمان ہند اعلیحضرت کے مکارم سے مسرور وممنون تھے اوس سے
زیادہ ہندوستان کے وہ ہندو باشندے جنگو برٹش جیسی عادل عاقل گورنمنٹ کے فعلون پر
نکتہ چینی کے چبین نہین ملتا شاہ افغانستان کے وسیع وکریمانہ اخلاق کے مسخر ہو گئے
اور یہ جادوے تسخیر نہ صرف اونکے دلون و چہرون سے اوس زمانہ مین ظاہر ہوتا تھا بلکہ
اونکی تمام تحریرین واخبار اوس سے مملو تھین اور ہین۔ الغرض اعلیحضرت امیر کا سفر ہند
افغانستان وہندوستان کی تاریخ میں ایک ایسا واقعہ ہے جو سنہرے حرفون مین لکھا
جانا چاہئیے۔ یہ ایسے اجمالون کی تفصیل ہے جسپر تاریخ ماضیہ کی چشم امید لگی تھی اور افغانسان
کی اون ترقیون کی مبتدا ہے جنگی خبر افغانستان کے قوائے مضمر استقبال بعید مین دے
رہے ہین خدا وہ دن لائے اور افغانستان کو اس مرتبہ پر دکھلائے جسکے قابل تمام
ازل نے اوسکو بنایا ہے۔
جاپان ایک بے حقیقت جزیرہ ہے اوسکے باشندے آج جس اوج کمال پر ہین اوس سے
اندازہ ہو سکتا ہے کہ اگر اعلیحضرت امیر افغانستان سیطرح اپنے ملک کی ترقی کے فراہمئی اسباب
مین مصروف رہے اور وہان کی رعایا نے چھوٹی چھوٹی باتون مین اختلاف کر کے اونکی توجہ کو
منتشر نکیا تو دونون کے مساعی مجموعی سے اگر خدا چاہتا ہے تو کابل کس درجہ اوج و کمال پر
پہونچ سکتا ہے۔
ہمنے اوپر لکھا ہے کہ اعلیحضرت کی تشریف آوری بہت سے اجمالون کی تفصیل ہے
اسکے یہ معنی ہین کہ ابھی وہ زمانہ دور نہین ہے جب تعلقات دونون گورنمنٹون کے با وجود
مراسم قدیمانہ کے اتنے اجنبی تھے کہ فرمان روائے کابل کا ہندوستان مین یون آزادانہ سیاست
کرنا ایک امر خالی از خطرہ نہ سمجھا جاتا تھا اور نہ رعایائے کابل کے امن کی یہ حالت تھی کہ وہان کا
فرمان روا اپنے ملک کو یون چھوڑ کر دوسرے ملک مین جاسکے۔ بحمد للہ خداوند کارساز نے
یہ مراتب حسب خاطر طے کئے اور وہ مبائنت ومخاطرت کا موقع باقی نہ رہا اب وہ وقت ہے
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
