Machine transcription
۱۳۴
کا قیمتی راز ایسا نہ تھا کہ انسان کو ملائک پر فضیلت نہ دی جاتی یا نوعیت او ندی کو خاصہ مظہر
ہونے کے باعث خود ملائکہ کو ان کی عظمت کا اعتراف نہ ہوتا ۔ محض شان حق کا نتیجہ تھا جسے
یہانتک دیا مجھ کو حسن عروج کہ بندہ سے مولا بنایا مجھے
اس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ انسان میں نفس حق موجود ہے اور وہی انسان کی شرافت اور
تفضیل کی دیگر مخلوقات پر حجت ہے۔ اس مقام سے استنباط ہوتا ہے کہ بندہ و رب میں
کیسی مناسبت پیدا ہوئی ۔ علاوہ معنوی واسطہ کے بڑی مناسبت صورت ہے اور یہی حقیقت
ہمہ اعلیٰ واکمل ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور انسان کی خلقت جو دو صنف مرد وعورت
پر منقسم ہے اسکی صفات خداوندی کے ساتھ تسلیم کرنی پڑتی ہیں ۔ تو یہان سے یہ نتیجہ
بآسانی نکل سکتا ہے کہ بظاہر مرد کی محبت عورت کے ساتھ اصل وجزو ہونے کے اعتبار
سے ہے مگر فی نفسہ محبت اس ذات بے ہمتا کی وجہ سے ہے جس سے وجود آدم ظاہر ہوا
حضور سید المرسلین کا ارشاد کہ مجھ کو عورتین محبوب ہیں محض تعلق محبت حق سے ہے
جو چیز صانع بے مثال کو پسندیدہ ہو آپ کو بھی اسکا مرغوب و محبوب رکھنا ضرور ہے
صوفیائے کرام کے نزدیک مشاہدۂ احسن الخالقین جنس نسوانی میں اوسکا شہود
منفعلی ہے اور مشاہدہ حق اپنی نفس میں اس حیثیت سے کہ عورت اس سے ظاہر ہوئی
شہود فاعلی ہے اس صورت میں مشاہدہ باری تعالیٰ فاعلاً و منفعلاً دونون اعتبار سے
ہوتا ہے ۔ چونکہ ذات خلاق عالم اہل عالم سے بالذات غنی و بے پروا ہے ۔ لہٰذا بغیر
مادون کے صانع مطلق کا مشاہدہ ناممکن ہے؎
طور و موسٰی کی حقیقت پہ نہیں کرتے نظر دیکھنا کیا ہی سمجھ رکھا ہو آسان تیرا
یہ لن ترانی کی تفسیر ہے جب انبیاء کی خاص ذات کے لیے یہ حالت ہے تو عام
نوع انسان کے واسطے بغیر وجود مادہ کے مشاہدہ کیونکر تسلیم کیا جائے اور اگر
ایسا ہے تو صنف نساء سے بہتر و افضل مشاہدہ جمال اصل کا اور کسی مادہ میں ممکن
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
