Machine transcription
۱۳۰
عورات کی بہادرانہ تحریک و ذاتی شجاعت ہوئی ۔ دولاکھ استی ہزار رومیوں کا مقابلہ
پینتیس ہزار عربون کو کرنا پڑا تھا۔
اس موقع جنگ پر تین مرتبہ رومیون نے اپنی کثرت کی بدولت عربون کو پسپا کرکے
غلبہ حاصل کیا اور ہر مرتبہ عرب کی باحیا دلاور بیبیون کی اس حمیت دلانے والی تحریک
نے کہ اگر تمنے لڑائی سے منہ موڑا تو ہماری صورت نہ دیکھو گے عربون کو جوش دلا کر دیوانہ
بنا دیا اور بالآخر شکست فتح سے بدل گئی ۔ اس جنگ مین محض تحریک ہی سے کام نہین
لیا بلکہ خود بھی عورتین بڑی بہادری سے لڑین۔
ایسی بہت سی تاریخی مثالین موجود ہین جنین محض شجاع و قابل بیبیون کی وجہ سے
کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ زمانہ حال مین جاپانی عورتون نے اپنے افعال واقوال سے
ثابت کر دیا ہے کہ ترقی یافتہ قومون مین کیا اسپرٹ پیدا ہو جاتی ہے۔
دنیا کی ابتدائی تاریخ سے جنگجو و وحشی قومون مین لڑائی کی سختیون کا وبال و نز لہ ہمیشہ
عورتون و بچون پر عضو ضعیف کی طرح گرتا ہے اور کیون ؟ صرف اسلیے کہ وہ نازک و
بیقدر سمجھے جاتے ہین اور انسانی سے حیوانی جذبون کا شکار بن جاتے ہین۔
مگر جس قوم مین عورات ایک جزو ضروری معاشرت مین سمجھے جاتے ہین اور اُن کاو
نیاک حصہ سمجھا جاتا ہے جسکی تاکید ہر زمانہ کی تہذیب عموماً اور شریعت نبوی خصوصاً کرتی
ہے وہان ضرور ہے کہ ہر انقلاب مین اُن کے حقوق کی نگہداشت کی جاوے اور
وہ معزز سمجھی جاوین۔
جبتک کسی قوم مین ترقی وجدان اس حد تک نہین پہنچتی جہان داد و گیر کی ضرورت
نہ رہے وہان کوئی سچی ترقی تہذیب کے متعلق نہین ہو سکتی ۔
توپین ڈھلین ۔ کارخانے بنین ۔ مدر سے بڑہین ۔ دولت افزون ہو ۔ مگر قوم کے مرد
جب تک عورتون کے حقوق کی تعظیم سے واقف نہون نہ حملے کے قابل نہ حفاظت
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
