Machine transcription
١٢۶
مسرور رہتے ہیں اس تمہید کو بعد مباحث ذیل فیصلہ طلب معلوم ہوتے ہیں۔
اول آیا ہر محبتی پیر نے کوئی صحبت خود ایسی تلاش کی جسمیں کوئی امر خلاف شریعت تھا مثلاً مشارکت نسوان یا ایسے جلسہ میں شریک ہونا ایک امر ناگزیر یا بخاطر میزبان یا بپاس تہذیب تھا
دوم ۔ آیا ایسی خاص حالتوں میں شریک ان مجالس کا ہونا جہان یورپین لی بیان جمع ہوں کسی حکم شریعت کے خلاف تھا۔
سوم آیا ایک باخبر والی ملک کو جسے اپنے ملک میں سبطرح ترقی پھیلانا ہے ایسی صحبت خالی از مفاد یا ضروری تھی۔
امر اوّل پروگرام کے دیکھنے سے شک باقی نہیں رہتا کہ کسی جلسہ مین امیر کی طرف سے کوئی ایسا اشارہ نہ تھا جس سے ان کی منشاء لیڈیز کی مشارکت کے باب میں پائی جائے نہ اُن موقعوں پر اعلحضرت کے افعال یا اشارات سے کوئی بات ایسی مترشح ہوئی جس سے ان کی طبعیت کا میلان یا خلا لاینبغی پایا جاتا ہو۔
یورپین تہذیب کے موافق جس جلسہ میں لیڈیز شریک نہون وہ خلوص محبت سے خالی ہوتا اور لیڈیز کی شرکت گوارہ نہونا۔ ان کے قانون تہذیب میں بدترین شان وحشت ہو۔ سوائے ان باضابطہ مواقع کے جہان محض مجالس امور سلطنت سے متعلق ہوں یورپ میں کوئی صحبت لیڈیز سے خالی نہیں ہوتی۔ اور نہ معزز سمجھی جاتی ہو جبتک وہ شریک صحبت نہون۔ ایسی صورت مین جب اعلحضرت کو۔ گورنرون اور وایسرائے کی مجالس معاشرت میں شریک ہونا قرین مصلحت ہوا۔ تو ان کو بجز اتباع قواعد میزبانان اور کیا چارہ تھا۔
عامہ خلایق کی کسی رواج عام کی خلاف ورزی خالی از فضیحت نہیں چہ جائیکہ دائرہ آداب سلاطین ایسے موقعون پر شاہوں وشہنشاہوں کی چھوٹی سے چھوٹی حرکات وسکنات معترضین کی نگاہ کے سامنے ہوتی ہیں اور ان کے ملکوں کی نیکنامی و بدنامی ان کے دانشمندانہ سلوک پر منحصر رہتی ہے۔ ایسے وقت میں عوام کو ایک مہذب رمز شناس فرمان روا
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
