Machine transcription
۱۲۵
بذات خود بازاروں میں جاکر خرید و فروخت کرتی ہیں۔
اسکے برعکس شریعت میں کہیں ممانعت نہیں ملتی کہ دوسری ملت و قوموں کی عورتیں جو اپنی رسم و رواج اور مذہب کے موافق پردہ نشینی کی پابند نہیں اُن کے حضور سے بضرورت لڑکی بحالت سیاحت بصورت میزبانی و مہمانی اجتناب قطعی کیا جاوے۔ اصول فقہ ہے الضرورات تبیح المحظورات یعنی ضرورت ممنوعات کو بھی مباح کر دیتی ہے۔ یہ سرسری ملاحظہ باعتبار قیود شریعت کے ہے۔
عقلاً تھوڑے سے غور کے بعد معلوم ہوگا کہ ایشیا اور یورپ کے طرز معاشرت و عوارا کے عقل و دانش میں کیا فرق ہے اور ایشیائی مردوں کو یورپ کی باوقار معزز عوارات کے حضور سے کیا استفادہ کی ضرورت ہے۔
ایشیا میں عورتیں اپنی کم علمی اور دنیا کی ناتجربہ کاری کیوجہ سے تمام امور میں بجز خانہ داری کے ایک صنف بیکارسی ہیں۔ مگر یورپ کے حالات جاننے والے جانتے ہیں کہ عوارات یورپ اور خاصکر طبقات عالیہ میں کس مرتبہ پر ہیں موازنہ صحیح سے معلوم ہوگا کہ یورپ کی ترقی میں آدھا حصہ یا لمیہ غالب عورتوں کی وقار و عالیمرتبی کا نتیجہ ہے۔
ایشیا میں آٹھ دس برس تک کے لڑکے جبتک مدرسے و مکتبوں میں نہیں جاتے علم پڑھنے سے محروم قطعی رہتے ہیں۔ یورپ میں تعلیم یافتہ عورات کی بدولت اُن کو بچوں کا سچا زمانہ تعلیم و تربیت ایام مھد سے شروع ہوتا ہے۔
ایشیا میں نوجوانوں کی جوانی کا زمانہ سب سے خطرناک ہی اُس میں گمراہی کا بڑا سبب ایشیا کی عورتوں کی صحبت کا اثر ہوتا ہے۔ یورپ میں اُس کے برعکس شباب خواہ مرد کا ہو خواہ عورت کا شکل معقول وہاں کی عوارات کی بزرگی و ہیئت ہی سے صورت پکڑتا ہی جو تمام عمر اُن کے خصائل حسنہ کا ذمہ دار رہتا ہے۔ ایشیا کو نوجوانوں کو جو موقع عورتوں کی پردہ نشینی کیوجہ سے جادہ اعتدال سے گذرنے کے میسر آتے ہیں وہ یورپ کی تجربہ کار قابل بیبیوں کی نگہداشت سحر
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
