Machine transcription
مال ومتاع بوجہ طرق۔ مظلوم و مجبورون کو جان بچانے کے لیے دوسری سلطنتون سے امداد
کی ضرورت ۔ اور دوسری ملکوں میں جاکر آباد ہونے کی حاجت پڑتی ہے۔
ایک راستباز روشن خیال ذی علم مسلمان باشندہ قران مملکت روس نے جن مظالم کا
جسے استنبول مین تذکرہ کیا ہم اگر اسکی تفصیل بیان بیان کرین تو اہل ہندمین سے ہرشخص
کی آنکھوں سے آنسو روان ہون۔
سلطنت میں شریک ہونا۔ اُسکے قانونون مین مشورہ دینا۔ اُس کی مجالس تک رسائی
اُسکا تو ذکرہی نیچے حقیقتاً مین مملکت ہندوستان دارالامن اور روس دارالقرار ہو۔
برٹش گورنمنٹ مین اگروہ حرکتین شنی کر دی جائین جو ہندوستانیون کو خود ہندوستانیوں
کے ہاتھ سے پہونچتی ہیں تو یہ کہنا بیجا نہو گا کہ دنیا میں کسی اجنبی سلطنت کے سایۂ حمایت مین
یہ امن و آسایش میسّر نہین آسکتی۔ ناحق شناسی ہے اگر رعایای ہند عموماً اور مسلمانان ہند
خصوصاً اس نعمت کی قدر اور اپنے افعال واقوال مین سچی احسانمندی ظاہر نہ کرین۔
اپنی حاجتون اور ضرورتوں کو بطرز معقول سلطنت کے کانوں تک پہونچانا اور امید
اصلاح رکھنا بیشک ایک قومی فرض ہے مگر آداب سلطنت اور حقوق فرمانروا کو نگاہ نہ رکھنا
نہ صرف سوء ادبی ہے بلکہ علامت شقاوت ہے۔
کسی قوم سے اختیارات سلطنت خدا نہین لیتا جب تک وہ پایۂ انسانیت سے گر نہ جائے
اور کسی قوم کو اختیارات سلطنت دستِ قدرت سے نہین بخشے جاتے جبتک اوس مین
وہ اوصاف حمیدہ نہ پائے جائیں جس سے ودیعت سلطنت امینانہ ادا کر سکین۔ اِن
دور جون کے فرق کو جب تک کوئی رعایای مفتوح اچھی طرح نہ سمجھے گی حفظ مراتب نہین کر سکتی
پارہ ۱۷- سوره انبیاء وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا
عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ ٥ حصه افرا تاہے کہ ہم زبور مین نصیحت کے بعد یہ بات لکھ چکے ہن کہ ہمارے
نیک بندے زمین (کی سلطنت) کے وارث ہوں گے۔
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
