Machine transcription
۱۱۰
خود ہی کمی کردی۔ اب بجز دُشمنان اتفاق اور بدخواہان ملک کے کوئی اس وقت خیر عمل کو پاس
نہیں سکتا۔
ملکی بھلائی پر ذاتی اغراض کو ترجیح دینا اور جس صورت میں فائدہ ذاتی نہ ہوا ایک نہایت
کمینہ خیال ہے۔ گورنمنٹ ایسے لوگوں پر کیا اعتماد کرسکتی ہے جو ذاتی عناد متعصبانہ
خیال سے ملکی اتفاق۔ قومی بہبودی کو چھوڑ دیں۔ جو ذلیل نفع پر برادران ملکی کی دل آزاری پر
آمادہ ہوں۔ جو پرائے شگون پر اپنے خوبصورت شکل کو بد نما بنائیں۔ جو محبان وطن کو روحی
ایذاء پہنچائیں۔ وہ آڑے وقت میں گورنمنٹ کا کیا ساتھ دے سکتے ہیں اور کیونکر ملک میں
اتفاق پیدا کرسکتے ہیں۔
بعض کوتہ اندیشوں کا یہ بھی خیال ہے کہ ایسے جھگڑے جو ہندو مسلمان میں نااتفاقی
کا باعث ہیں بمصلحت ملکی کی بنا پر بعض حکام گورنمنٹ خود ان کے بانی مبانی ہوتے ہیں
بفرض محال اسکا کوئی وجود ہے تو وہ گورنمنٹ کی کمزوری کو ثابت کرتا ہے۔ رعایا کی شکایات
پبلک کی نارضامندی حکومت کی غیر اطمینانی کا سبب ہے۔ جن حکام کا ایسا ذلیل خیال ہو وہ
بنیاد حکومت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اب یوں لیجئے کہ ایسے جھگڑے جو آپس میں
نااتفاقی پھیلاتے ہیں کسی زبردست قوت کی تحریک ہی سے پیدا ہوتے ہیں جسکو تسلیم
کرنے میں ذی شعور کو تامل ہوگا۔
تو ہماری کسدرجہ حماقت و کمزوری اخلاق ہے کہ ہم جان بوجھکر اُن تحریکوں کی
تائید کریں۔ اس لحاظ سے تو خود بچنا چاہیے تاکہ تیسری قوت کو ہم میں نااتفاقی
پھیلانے اور ہمارے زوال قوت کا موقع ہی نہ ملے۔
مگر یہ صرف کہنے کی بات ہے مقصد اور ہی کچھ معلوم ہوتا ہے ہم اردو ناگری کے
متعلق ایک روشن خیال شاعر کی نظم لکھتے ہیں جو اس بحث پر عمدہ روشنی
ڈالتی ہے۔ ع
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
