Machine transcription
ہو جائے تو اس کیساتھ ساتہ ان کے قومی ولولے و مذہبی جوش بھی رخصت ہو جائین لوگون
پر میدان جیت لیا۔ مسلمان انگریزی مین ہم سے پیچھے ہین۔ اردو زبان محض ملازمت کی لالچ
مین پڑہتے ہین۔ نوکری پیشہ لوگ ہندی حروف مجبوری سے حاصل کرینگے لیکن اس
زبان مین کوئی بات ایسی ان کو نہ ملیگی جو ان کی غفلت پر تازیانہ کا کام دے ۔ یا ان کو
اپنی تاریخ یا دولا دلا کر پہر ابہر نے پر آمادہ کرے۔ اور عوام الناس تو بنگال اور دیگر
صوبجات ہند کے مسلمان کا شتکاروں کیطرح اپنی اصلیت کو ہی رفتہ رفتہ بہو لجا ئینگے
اور شودرون کیطرح اعلیٰ اور متمول قومون کی خدمتگزاری مین نہ ان کو کسی قسم کی عار ہوگی
اور نہ کبھی ہمسری کا دعویٰ۔
اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ہندوون کا مطلب مسلمانون کو بزک دنیا یا پامال کرنا نہین ہے
بلکہ ضرورت کی وجہ سے کوشش کر رہے ہین تو اسکے جواب مین بجز اسکے اور کچھ عرض
نہین کیا جا سکتا کہ وہ شخص یا تو دانستہ غلط بیانی کرتا ہے یا اصلی واقعات سے بیخبر ہے
اسکے خیال کی تردید اس سے ہو سکتی ہے کہ آج تک کسی اہل ضرورت نے کبھی کوئی
شکایت اردو زبان کی نسبت نہین کی۔ اب وہ لوگ اردو زبان کے ماہر جن کے
گہر مین اردو زبان مروج ہے جن کی مادری کے علاوہ کاروباری زبان یہی ہے
ان کا گورنمنٹ مین شاکی ہونا واویلا مچانا قوم مین جوش پہیلانا کسی ضرورت پر مبنی
نہین ہو سکتا۔
اس کو ہم قبول کرتے ہین کہ نہ مسلمان ہندوستان مین آتے نہ اردو کا وجود
ہوتا۔ تو محض اس خیال سے کہ اسکے باعث مسلمان ہوئے کوشش کر کے نیست و
نابود کر دینے اور اس محمدتی کے پاکیزہ خیال کو جو دو متضاد مذاہب اور اجنبی قومون
مین اس زبان کے طفیل پیدا ہوا کہو دینے سے بڑہکر کوئی دردناک بات مسلمانون یا
شریف دل انسانون کے لیے ہو سکتی ہے ۔
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
