Machine transcription
۱۰۶
جاری کرانا چاہتا ہے۔ اسکی کوششین و گرمجوشی دو وجوہ پر مبنی ہیں۔ اول وجض
خیالی اور سخت افسوس کے قابل ہے۔
ایک روشن خیال محب ملک کو سفر ریل میں دو تعلیم یافتہ ہندو صاحبون کی گفتگو سنے
کا اتفاق ہوا۔ ایک صاحب نے جو غالباً کایستھ قوم کے تھے اپنے ساتھی کو دریافت
کیا کہ آپ لوگ اردو زبان کی مخالفت پر کیون اسقدر آمادہ ہیں۔ آخر ہم لوگون کی بھی تو
مادری زبان اُردو ہی ہے۔ اور اس تبدیلی سے ہم لوگون کو بھی اسیقدر دقتین برداشت
کرنا پڑینگی جسقدر مسلمانون کو۔ دوسرے صاحب نے جو یقیناً برہمن قوم کے تھے جو جواب دیا
اسپر نہ صرف مسلمانون بلکہ ہندو صاحبون کو بھی افسوس کرنا چاہیے۔
برہمن صاحب نے فرمایا کہ اصلیت تو یہ ہے کہ مسلمانون نے ہمارے ساتھ
جو جو ظلم و تعدی کی تھی اُن کو ہونا ہمارے اختیار سے باہر ہے اُن کی حکومت کی
تاریخ ایک خار ہے جو ہر وقت ہمارے پہلو میں چبھتا ہے۔ اردو اُسی نامبارک زمانہ
کی ایک نشانی ہے۔ اسکو دیکھکر ہماری آنکھوں میں خون اُترتا ہے جب تک وہ صفحہ
ہستی سے نیست و نابود نہ ہوے اسوقت تک ہم کو چین نہیں۔ یہ خیال ہر جسنے
اُردو کی مخالفت ہندی کے حامی گروہ کو اپنی کوششوں مین دیوانہ بنا رکھا ہے۔
گو مسٹر سرنیدرناتھ بنرجی نے اپنے خط میں جو ڈیلی ٹیلیگراف میں شائع ہوا ہے
مفصلہ ذیل الفاظ مین اپنی قوم کو نصیحت کی ہے ”گذشتہ مسلمانون کی فوقیت
کی ہر ایک نشانی کو مٹا دینے کا خیال جو ہماری طرف منسوب کیا جاتا ہے ایک ایسا
خیال ہے جو سواے ایک مجنون آدمی کے اور سیکے دماغ میں نہیں آسکتا بخیال
اُن یادگار کو قائم رکھنے والی عمارات کے جو دہلی اور آگرہ میں باقی رہ گئی ہیں اور بنظر
اس دیر پا مدبرانہ یادگار کے جو آئینہ اکبری میں محفوظ ہے۔ اور بلحاظ اس مفید پالیسی کی
جو سب سے بڑھکر شریفانہ یادگار ہے اور جو اگرچہ کسی کتاب مین نہین پائی جاتی لیکن
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
