Machine transcription
۹۱
دونون اس مین ملی ہوئی ہین۔ زندگی خوشگوار نہین ہو سکتی جب تک کہ شعراء اوسکو
خوشنما کر کے نہ دکھائین۔ فخر کی خوبیان تمہار اول نہین لبہا سکتین جب تک کہ شعراء
اُس کے حُسن جمال کی تصویر کھینچکر نہ لائین۔ قوم کی محبت دلون مین پیدا نہین ہو سکتی
جب تک کہ شعراء تمہارے اندرونی جذبات کو نہ اکسائین۔
موجودہ زمانہ مین ایشیائی شاعری نگاہ قدر سے نہین دیکھی جاتی۔ امیر
بھی اسیوجہ سے اسکے دلدادہ نہین۔
مجاوران مزار جن کی طبیعت مین بزرگان دین کی قربت معنوی کا افتخار سمایا ہوا ہے
وہ اپنے مقابلہ مین دیگر تمام مستحقین کے ساتھ احسان کرنا خیرات بے معنی خیال کرتے
ہین۔ ان خیالات کے ساتھ جب یہ خبر معلوم ہوئی کہ ایک ایشیائی بااختیار حکمران
ہماری گورنمنٹ کا مہمان بنکر آ رہا ہے اُسکے تمام اخراجات سفر و مہانداری گورنمنٹ
نے نہایت فراخ حوصلگی سے اپنے ذمہ قبول فرمائے ہین۔ بادشاہ مہمان بھی
خزاین کے صندوق اپنے ہمراہ لیے ہوئے ہے جس نے پشاور پہونچتے ہی جامع مسجد
مین دس ہزار روپیہ عطا فرما دیا۔ علی گڑھ کالج کو چھہ ہزار سالانہ دوامی اور بیس ہزار
یکُمشت بخشدیا۔ وہ خوش عقیدت مسلمان بادشاہ مجاوران و متولیان مزار کو جو
کچھہ بھی نذر کرے وہ کم ہے۔
یہہ رُوداد ایک تمناے بیجا کی محرک تھی۔ مگر نہ وہ امیر کی دانشمندانہ خیرات سے
باخبر۔ نہ اُن کی روشن دماغی سے آگاہ نہ ملکی آمدنی و اخراجات سے واقف نہ اُن
کی قابلانہ پالیسی سے مطلع تھے۔
مقررّان مزارات زائرین سے اپنا حق وصول کرنا واجب جانتے ہین اور یہہ
عادت اُن کی طبیعت ثانی ہو گئی ہے اس لحاظ سے وہ معذور بھی ہین۔ مانا کہ خاص
عام کے مقابلہ مین جو وہ اپنا حق سمجھتے ہین وہ کسیقدر بیجا نہو یا اخلاقی اعتبار سے
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
