Machine transcription
سے باز نہیں آتا اور نہیں خیال کرتا کہ یہ عام مقولہ ہے کہ سچی بات دیوانہ کہے یا مستانہ
باوجود تجربہ کے پھر بھی میں نے عرض کیا کہ حضرت یہ آپ کیا فرماتے ہیں یہ صفات تو
غضب الہی کے ہیں کہ اُس سے سمندر خشک ہو جائے دوزخ و جنت کا نام و نشان
مٹ جائے آسمان پھٹ جائیں زمین دھس جائے انسان کی اس ضعیفی اور محتاجی پر جو
اظہر من شمس ہے ایسا بیان کرنا زیبا نہیں۔ خان صاحب نے ترش ہو کر فرمایا۔ آپ کیا
جانیں جیسا میں نے عرض کیا وہ بالکل صحیح اور درست ہے۔ میں نے بھی اسی لب و لہجہ
میں عرض کیا ۔ حضرت سمندروں اور دریاؤں کا خشک ہونا تو درکنار میں ایک پیالہ پانی
بھر کر اعلیٰ حضرت کے روبرو رکھے دیتا ہوں اعلیٰ حضرت اپنے غضب کی تقویت کے تمام
سامان یعنے توپ تفنگ فوج فرہ جو کچھ بھی ہو وہ سب مہیا فرمالیں اور تمام قوت غضبیہ
کا خاتمہ اس پیالہ پر فرمادیں اگر غضب کے اثر سے اُس پیالہ میں سے ایک قطرہ بھی پانی کا
خشک ہو جائے تو آپ میرا رو سیاہ کر کے گلی میں جوتیوں کا ہار ڈال کر گدھے پر سوار کر کے
سارے شہر میں گشت کرائیے گا۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر آپ کو بجائے میرے ایسا کرنا
ہو گا مستوفی صاحب بھی اس گفتگو کو سُن کر تبسم فرما رہے تھے۔ اُنہوں نے اس بات کو رفع
دفع کر دیا۔ اسکے بعد بندہ حاضر دربار ہوا دربار برخاست ہونے کے بعد ذات
اقدس شاہانہ کے ہمراہ طعام میں شریک ہوا اعلیٰ حضرت خلد آشیان مسند آرائے
سریر خلافت تھے بندہ اور مستوفی صاحب اور عالیجناب احمد شاہ خان صاحب ملک التجار
زیر سریر شاہی اعلیٰ حضرت خلد آشیان کے طبع مبارک فطرتاً ظریفانہ واقع ہوئی تھی۔
اس لئے خوش کن گفتگو بھی ہوتی جاتی تھی عالیجناب مستوفی الممالک صاحب نے موقع پا کر بیر[؟]
اور اپنے بھائی کا قصہ فرمانا شروع کیا جس کو اعلیحضرت خلد آشیان نہایت غور سے سنتے
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
