Machine transcription
دیکھیں اور آئندہ اُس کی اور مضبوط اور مستحکم ہونے کی اُمید ہزارہا خوش کن خیالات پیدا
کرتی ہو۔ اللّہم زد فزد ۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر ہم ہزمیجسٹی پادشاہ افغانستان کی تعریف و توصیف کریں یا
اُن سے جائز تعلق رکھیں تو ہماری گورنمنٹ کی ناراضی کا باعث ہوگا۔ ہمارے نزدیک یہ
خیال نہایت غلط معلوم ہوتا ہے کیونکہ اگر بنظر غور دیکھا جائے تو افغانستان کی اِس عزت
اور ترقی کا بڑا باعث ہماری گورنمنٹ ہی کی امداد ہے نہایت تعجب خیز امر ہے کہ خود ہی گورنمنٹ
اُنکی عزت افزائی کرتی ہو اُنہیں مہمان بناتی ہو اپنا دوست بناتی ہے۔ پھر جو اُنکی عزت کریں گے
اُنہیں محبت کی نظر سے دیکھیں گے گورنمنٹ کے مخالف تصور کئے جائیں گے چہ خوش گفت است سعدی
در زلیخا + یہ کونسے ملک کا فلسفہ ہو کہ دوست کا خیر خواہ مخالف ہوتا ہے + اعلیٰ حضرت کا
ہندوستان میں بطور مہمان تشریف لانا گورنمنٹ کی دوستی کا قاطع ثبوت ہے۔ بقول حضرت
ضیاء الملۃ والدین خُلد آشیان علیہ الرحمۃ = میں چاہتا ہوں کہ خود ہندوستان جاکر وائیسرائے دوستانہ
ملاقات کروں تاکہ تمام دنیا کو معلوم ہوجائے کہ جس حالت میں کہ امیر افغانستان ایک خود مختار اور آزاد حکمران
خلاف معمول اپنے ملک سے باہر جاکر صرف ایک مختصر باڈی گارڈ کے ساتھ نائب نیزہ پر ملکہ
انگلستان کے ملنے لئے ہندوستان جاتا ہو تو ضرور ہے کہ ان دونوں قوموں میں نہایت اختلاط
و اتفاق ہے اور ایک کو دوسرے پر کامل اعتبار و اعتماد ہو اِس فضیحت سے تمام جھوٹی افواہوں کی تردید
ہوجائے گی اور ثابت ہو جائیگا کہ مابین سلطنت انگلستان و افغانستان سچی خالص دوستی ہے۔
گورنمنٹ انگلیشیہ کی عظمت اور دبدبہ زیادہ ہو جائیگا اور عام طور پر ظاہر ہو جائیگا کہ ہندوستان و
افغانستان کی حفاظت اور مضبوطی اِسی پر منحصر ہو کہ دونوں میں باہم اتحاد و اتفاق ہے۔ الخ =
سالے ترک عبد الرحمانی جلد دوم صفحہ ۱۱۵۔
Roughly two thirds of characters agree with a modern printed edition of the same text. Much of the disagreement is editorial, not misreading. Treat the transcription as a finding aid and read the page image before quoting. How this was measured.
